خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 284

$1945 284 خطبات محمود رض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یا تابعین کی طرح ہو رہی ہے یا نہیں۔مجھے جب کوئی کہتا ہے کہ فلاں شخص بڑا نیک ہے اُس سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ یہ فقرہ کہہ کر مجھے اس کے متعلق خوش کرنا چاہتا ہے۔مگر میرا دل جل جاتا ہے کہ یہ تو ایسا ہی ذلیل درجہ ہے شخص کہے کہ فلاں شخص بدمعاش نہیں۔فلاں شخص خبیث نہیں۔یہ بھی کوئی تعریف ہے۔اگر کوئی آدمی بادشاہ کے دربار میں جائے اور کہے اے بادشاہ! تو خبیث نہیں۔اے بادشاہ! تو بد معاش نہیں۔اے بادشاہ ! تو کیا نہیں ! تو بتاؤ وہ وہاں سے انعام لے کر نکلے گا یامار کھا کر۔ہے۔یہ چیزیں تو ساری سلبی ہیں یہ نفی کرتی ہیں اس کی خباثت کی۔یہ نفی کرتی ہیں اس کی بد معاشی کی۔اور نفی تعریف نہیں ہوا کرتی۔بلکہ شریف انسان اس کو گالی سمجھتا سینکڑوں بلکہ ہزاروں احمدی ایسے ہیں جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اندر وہ عیوب نہیں رکھتے جو او باش لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔مگر کتنے ہیں جو دین کے لئے جوش اور اخلاص رکھتے ہیں اور رات دن اُن کو یہی ڈھن لگی ہوئی ہو کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت جلد پھیلے۔وہ لوگوں سے محسن سلوک سے پیش آتے ہوں۔کمزوروں کی مدد کرتے ہوں۔ضعیفوں کی طاقت کا موجب بنتے ہوں۔گرے ہوئے کو اٹھاتے ہوں۔بیواؤں کی خبر گیری کرتے ہوں۔اور دنیا کو یہ محسوس ہوتا ہو کہ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے فائدہ کے لئے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہم میں یہ بات ہو یا نہ ہو لیکن صحابہ کی زندگی میں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے۔پس جب تک ہم میں یہ رنگ نہیں پایا جاتا اُس وقت تک ہماری جوانی صحیح معنوں میں جوانی نہیں کہلا سکتی۔بچپن کا زمانہ گزر گیا۔بچپن میں اگر ہم نے اپنے فرائض ادا نہیں کئے تو یہ بہت بڑا نقص تھا۔لیکن بچپن تو گزر گیا۔اس کے بعد اب اگر ہماری جوانی بھی بے کار جائے تو بڑھاپا بہر حال خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔اور ہماری مثال اُس شخص کی سی ہو گی جس پر جوانی آنے سے پہلے ہی بڑھاپا آجائے۔پس قوم کی جوانی کی اپنی جوانی سے بڑھ کر حفاظت کرو۔ہم دنیا کے سامنے دعویٰ تو پیش کرتے ہیں کہ ہم دنیا کی حفاظت کے لئے آئے ہیں، ہم دنیا کو امن دینے کے لئے آئے ہیں