خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 283

خطبات محمود 283 +1945 ایک روایت میں آتا ہے کہ صرف دو باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حل کرانی رہ گئی تھیں حالانکہ یہ بات غلط ہے۔وہ دو باتیں بھی حل ہو چکی تھیں۔لیکن اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے دلوں کو تسلی تھی کہ ہم نے باقی سب باتیں پوچھ لی ہیں صرف دو باتیں حل کرانی رہ گئی ہیں۔مگر کیا کوئی دوسری قوم ایسی ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم نے جو کچھ پوچھنا تھا پوچھ لیا ؟ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم نے جو کچھ حل کروانا تھا کر والیا؟ کیا حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم کہہ سکتی ہے کہ ہم نے جو کچھ حل کروانا تھا کر والیا؟ اگر اب ان پر کوئی سوال پڑے تو وہ اس کے لئے عقل دوڑاتے ہیں۔یہ نہیں کہ خدائی کتاب کی طرف رجوع کریں اور اُس سے جواب حاصل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دشمنوں کے خلاف یہی حربہ استعمال کیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ لغو بات ہے کہ انسان اپنے پاس سے کوئی دعویٰ کرے یا کسی دعویٰ کی دلیل پیش کرے۔بلکہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ دعویٰ بھی اُسی کتاب سے پیش کرے جسے وہ مانتا ہے۔دلیل بھی اُسی کتاب سے دے۔لیکن اسلام کے سوا تمہیں کوئی مذہب ایسا نظر نہیں آئے گا جو دعویٰ بھی اُسی کتاب سے پیش کرے جس کو وہ مانتا ہے اور دلیل بھی اُسی کتاب سے دے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہماری جماعت میں صحابہ کا رنگ پایا جاتا ہے یا نہیں اور عملی طور پر ہماری جماعت صحابہ سے مشابہت رکھتی ہے یا نہیں ؟ مخالف تو اعتراض کیا ہی کرتا ہے لیکن ہم جو ایک دوسرے کے خیر خواہ اور مُحِب ہیں کیا ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہی کام کر رہے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی جماعتیں کیا کرتی ہیں اور جس کا اعلیٰ نمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے دکھایا؟ اگر دیانت داری کے ساتھ ہمارا جواب ہو ”ہاں ! تو ہم سے زیادہ خوش قسمت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔اور اگر دیانت داری سے جواب ہو۔”نہیں“ تو ہماری زمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں اور ہمیں بہت جلد اپنی اصلاح اور جماعت کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور ہمیں اپنی موجودہ قربانیوں کو بہت زیادہ بڑھا دینا چاہیے۔ہم میں بہت سے ایسے ہیں جن کی زندگیاں شریف انسانوں کی طرح تو بسر ہو رہی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان کی زندگی