خطبات محمود (جلد 26) — Page 272
خطبات محمود 272 $1945 کیا۔بعض ان میں سے مسیح سے مقام کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔جیسے معین الدین صاحب چشتی اور بعض مسیح سے بڑھ گئے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔تو ابتدائی حالات میں بعض چیزوں کو ایک منفردانہ حیثیت حاصل ہوتی ہے لیکن جب وہی چیز یں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار تواتر کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں تو پھر ان کی وہ حیثیت نہیں رہتی۔پس كُن فَيَكُونُ تعدد اور تو اتر پر دلالت کرتا ہے۔خدا نے کہا ہو جا چنانچہ دیکھ لو کہ ہو رہا ہے۔ایک آدم کے بعد دوسرا آدم دوسرے کے بعد تیسرا آدم اور اسی طرح یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عیسوی مقام کے متعلق کہا کن یعنی ہو جا اور پھر فرمایا فیکون پھر ویسا ہی ہو تا چلا جارہا ہے اور دیکھ لو کہ بار بار عیسوی مقام ظاہر ہو رہا ہے۔اور ہوتا رہے گا اور اس میں تعدد اور تو اتر پایا جائے گا۔اور جب تعدد پایا گیا تو مسیح حقیقی معنوں میں خدا کا اکلوتا بیٹا نہ رہا کیونکہ اکلوتا بیٹا تو ایک ہی ہوا کرتا ہے۔اس مثال کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے اِس طرف اشارہ کیا کہ تم ابنِ مریم کو خدانہ کہنا جبکہ اس کے مثیل کو تم دیکھ رہے ہو۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے غرض اللہ تعالیٰ نے عیسی کی مثال آدم کے ساتھ اس لئے دی کہ آدم سے صفات الہیہ کا ظہور شروع ہوا۔لیکن آدم کے بعد آنے والے آدم سے بڑھ گئے۔اسی طرح عیسی سے مسیحیت کا دور شروع ہوا مگر بعد میں آنے والے اُن سے بھی بڑھ گئے۔آدم کی پیدائش کی غرض بے شک یہ تھی کہ ان کے ذریعہ صفات الہیہ کا ظہور ہو۔مگر الہی منشاء یہ نہ تھا کہ پہلا آدم پیدائش آدم کے مقصود کو آتۂ صورت میں ظاہر کرنے والا ہو بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کی نسل میں سے اور اُس کی اولاد میں سے آدم کی صفت کو ظاہر کرنے والے آتم وجود پیدا ہوں۔اسی طرح عیسی کے ذریعہ مقامِ عیسویت کا ظہور ہوا۔مگر اس ظہور کا یہ مقصد نہ تھا کہ اس کے ذریعہ مقام عیسویت آتم صورت میں ظاہر ہو بلکہ آئندہ زمانہ میں مقام عیسویت کا آتم صورت میں ظہور مقصود تھا۔اگر عیسی آتم صورت میں آتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ نہ کہتے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے