خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 268

$1945 268 خطبات محمود ہو چکے ہیں۔پس آیت کے یہ معنے کرنے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا پید اہو جاچنانچہ وہ پیدا ہو جائے گا یا پیدا ہوتا چلا جائے گا ایک بالبداہت طور پر غلط بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ہے۔اس مشکل کا حل دو ہی طرح ہو سکتا ہے۔یا تو ہم یہ سمجھیں کہ يَكُونُ کے اس جگہ معنے ماضی کے ہیں۔یا یہ سمجھیں کہ اس آیت میں پیدائش جسمانی کا ذکر نہیں بلکہ کسی اور قسم کی پیدائش کا ذکر ہے۔سو میں یہ پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ اس موقع پر کسی طرح بھی يَكُونُ کے معنے ماضی کے نہیں کئے جاسکتے۔پس یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم اس آیت میں پیدائش جسمانی کے معنے نہ لیں بلکہ کوئی اور معنے لیں۔اور وہ معنے ہوں بھی ایسے جو ایک طرف تو تواتر پر دلالت کریں اور دوسری طرف ان کی رو سے مسیح کی الوہیت پر بھی زد پڑتی ہو۔مگر ان معنوں میں سے جو مفسرین نے بیان کئے ہیں کوئی بھی ان شرائط کو پورا نہیں کرتا۔مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک معنے سمجھائے ہیں جو ان دونوں شرطوں کو پورا کرتے ہیں ان معنوں کے رو سے مضارع کے معنے ماضی کے بھی نہیں کرنے پڑتے اور عیسائیوں کے سب سے بڑے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید بھی ان سے ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسی کے متعلق عیسائی لوگ یہ خیال پیدا کر رہے ہیں کہ عیسی کسی غیر قسم یا غیر جنس کے تھے۔نہ پہلے کوئی ایسا وجود ظاہر ہوا اور نہ آئندہ ایسا وجود ظاہر ہو گا۔اور سمجھتے ہیں کہ مسیح خدا کا بیٹا ان معنوں میں نہیں جن معنوں میں پہلے انبیاء خدا کے بیٹے تھے بلکہ ان کے اندر فی الحقیقت الوہیت کی صفات پائی جاتی ہیں۔پہلے انبیاء کے لئے استعارةً ”خدا کا بیٹا“ کے الفاظ استعمال کئے جاتے تھے مگر مسیح کے لئے یہ لفظ حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کیونکہ مسیح الہی صفات کا مالک ہے کہ نہ پہلے کسی میں وہ صفات پائی گئیں اور نہ آئندہ کسی میں پائی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہم بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جو شخص اپنی جنس کے لحاظ سے منفرد ہو اور کوئی اُس کا مثیل نہ ہو وہ الوہیت کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔پس اگر مسیح واقع میں ابن اللہ ہے اور جیسا کہ تم کہتے ہو خدا کا اکلوتا بیٹا ہے۔تو اکلوتے بیٹے کئی نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر استعارہ کے طور پر کسی کو اکلوتا بیٹا کہا جائے تو ایسے اکلوتے بیٹے متعدد ہو سکتے ہیں۔اور اس لحاظ سے اکلوتے بیٹے کے محض یہ معنے ہوں گے کہ جیسے کسی انسان کو اکلوتا بیٹا پیارا ہوتا ہے ایسا ہی وہ