خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 256

خطبات حمود 256 +1945 میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعتیں ہر جگہ اس کتاب کو نہ صرف جماعت کے تمام افراد تک پہنچانے کی کوشش کریں گی بلکہ ہر جماعت یہ بھی کوشش کرے گی کہ اپنی جماعت کے افراد سے دگنی بلکہ تگنی تعداد میں اس کتاب کی مفت اشاعت اپنے اپنے علاقہ میں کرے۔گاؤں میں چونکہ کتابوں کی تقسیم زیادہ نہیں ہو سکتی اس لئے شہری جماعتوں کو اس طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہیے اور انہیں شہری آبادی میں یہ کتاب زیادہ سے زیادہ تقسیم کرنی چاہیے۔اگر بڑی بڑی جماعتیں اس کی طرف توجہ کریں جیسے امر تسر ، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم، فیروز پور ، راولپنڈی، ملتان، منٹگمری، کراچی، پشاور ہیں۔اسی طرح دہلی، لکھنو، حیدرآباد، سکندر آباد، بمبئی اور کلکتہ وغیرہ کی جماعتیں مل کر کوشش کریں تو وہ بہت آسانی سے پندرہ بیس ہزار کتابیں اپنے اپنے علاقہ میں شائع کر سکتی ہیں۔بعض علاقوں میں چونکہ ہماری جماعتیں تھوڑی ہیں اس لئے دوسری جماعتوں کو چاہیے کہ وہاں اپنی طرف سے یہ کتاب بھجوا دیں کیونکہ کمیونزم کا وہاں بہت زور پایا جاتا ہے۔مثلاً کانپور کا شہر اس بات کے لئے مشہور ہے کہ سارے ہندوستان میں وہاں کمیونسٹ پارٹی طاقت رکھنے والی ہے۔مگر ہماری جماعت وہاں بہت محدود ہے۔اس لئے ہر جماعت کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کتابیں خریدتے وقت اپنے نسخوں میں سے پچاس یا سو کاپیاں کانپور کی جماعت کو بھی مفت بھیج دے تاکہ کانپور کی جماعت کمیونسٹ لوگوں میں اس کتاب کو مفت تقسیم کر سکے۔ہمارے سامنے کمیونزم کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف عقلی لحاظ سے اسلام کے لئے خطرناک ہے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گزشتہ انبیاء نے ہزاروں سال سے اس فتنہ کے متعلق خبر دی ہوئی ہے۔مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق احادیث میں بھی آتا ہے اور پہلی کتب میں بھی کہ تمام گزشتہ انبیاء نے اس زمانہ کے فتنوں کی خبر دی تھی۔اور جب ہم فتن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں سب سے زیادہ اس فتنہ کی خبر معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ حز قیل نبی نے اپنی کتاب میں روس کے ایک فتنہ کے متعلق پیشگوئی کی ہے۔اور بتایا ہے کہ آخری زمانہ میں اس کے ذریعہ دین پر حملہ کیا جائے گا۔گویا وہ فتنے جن کی تمام