خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 255

خطبات محمود 255 $1945 ہمیں نہ دیکھنے دیں جس کے متعلق ہم چاہتے ہیں کہ دیکھیں۔پس اس قسم کے اعلانات قطعاً کوئی حقیقت نہیں رکھتے ان تحریروں کے مقابلہ میں جو روس کے لیڈروں کی ہیں اور جن میں مذہب کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔بلکہ یہاں تک الفاظ پائے جاتے ہیں کہ مذہب کی موجودگی میں ہمارا طریق کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔لینن لکھتا ہے ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم مذہب کو کچل دیں اور اسے دنیا سے مٹاکر رکھ دیں۔یہ کہنا کہ مذہب سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں لینن کہتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہمارا واسطہ ہے اور ضرور ہے اور وہ واسطہ یہ ہے کہ ہم مذہب کو دنیا سے مٹا دیں۔وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ جب تک خدا کا خیال دنیا میں باقی ہے۔جب تک دنیا اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتی ہے اُس وقت تک ہمارے اصول دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اب بتاؤ جب کمیونزم کے بانی اپنی تحریرات میں یہ امر کھلے طور پر واضح کر چکے ہیں کہ دنیا سے مذہب کو مٹانا ان کا اولین فرض ہے تو ہم اس قسم کے ملانوں کے اعلانات کو کیا کریں۔ملانے تو ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں اور وہ جو چاہیں اعلان کر دیتے ہیں۔اس تجربہ کے بعد کسی مولوی کی ایسی تحریر سے متاثر ہو جانا قابل تعجب بات ہے۔غرض اسلام کے لئے بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے لئے کمیونزم کا اقتصادی نظام ایک خطر ناک چیز ہے کیونکہ وہ مذہب کی جڑ پر تبر رکھتا ہے اور مذہب کی اشاعت اور اس کی تبلیغ کے راستہ میں روک بنتا ہے۔پس ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ کمیونزم کے متعلق جو لٹریچر شائع ہو اُس کی دنیا میں اچھی طرح اشاعت کرے۔میں نے تحریک جدید والوں کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس کتاب میں کسی نفع کا خیال نہ رکھیں بلکہ لاگت کے قریب قریب قیمت پر اس کو تقسیم کریں۔چنانچہ اس لحاظ سے کہ کچھ کتابیں مفت بھی دینی پڑتی ہیں۔جو جماعتیں کثرت سے یہ کتاب خریدیں ان کے لئے ایسی قیمت مقرر کی گئی ہے جو لاگت سے بھی کم ہے کیونکہ انہیں کثرت کے ساتھ لوگوں میں مفت کتابیں تقسیم کرنی پڑیں گی اور پھر کچھ کتابیں یوں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔میں نے ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کی پہلی اشاعت پانچ ہزار ریں۔