خطبات محمود (جلد 26) — Page 213
+1945 213 خطبات محمود بلکہ عین 7 مئی کو آکر سپردگی کے کاغذات پر دستخط ہوئے۔چونکہ وعدوں کی ادائیگی کے لئے ایک سال مقر ر ہے اس لئے دس سالہ دور تحریک کے چندوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ حسب قاعدہ 7 مئی 1945ء ہوتی ہے۔اور اسی تاریخ کو سپردگی کے کاغذات پر جرمنی کے نمائندوں نے دستخط کئے۔گویا قانونی طور پر عین اُسی تاریخ کو آکر جنگ ختم ہوئی جو تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی کے لحاظ سے سارے ہندوستان کے لئے آخری تاریخ ہے اور جس کے بارہ میں میں بار بار اور متواتر اڑھائی سال سے اعلان کر رہا تھا۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا یہ کتنا بڑا انشان ہے۔صوفیاء لکھتے ہیں کہ بعض بندوں کی زبان اور ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلی ! کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے موقع پر جب تو نے مٹھی بھر کر کنکر پھینکے تھے بظاہر تو وہ تو نے ہی دعائیہ رنگ میں پھینکے تھے لیکن ہم نے تیرے ہاتھ کو اپنا ہاتھ بنالیا اور اسے کفار کی تباہی کا موجب بنادیا۔تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہ سلوک رہا ہے کہ وہ ان کے ہاتھ کو اپنا ہا تھ اور ان کی زبان کو اپنی زبان بنالیتا ہے۔میں نے متواتر بیان کیا ہے کہ میں جو کہتا ہوں کہ جنگ 1945ء کے شروع میں ختم ہو جائے گی میں یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ میرے استدلال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ چونکہ تحریک جدید کا آخری سال چندوں کی ادائیگی کے لحاظ سے 1945ء کے شروع میں یعنی اپریل میں جا کر ختم ہوتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جنگ 1945ء کے شروع یعنی اپریل میں ختم ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے میری اس بات کو لفظاً لفظاً پورا کیا اور نہ صرف سال اور مہینہ کے لحاظ سے بلکہ تاریخ اور دن کے لحاظ سے بھی یہ بات لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔(الْحَمْدُ للهِ) یہ ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے جو نہ صرف احمد یوں بلکہ غیر احمدیوں کی مجلسوں میں بھی میں نے اس کو متواتر بیان کیا تھا۔1943ء میں دہلی میں جب مجھ سے ایک مجلس میں جس میں کئی غیر احمدی معززین موجود تھے یہ پوچھا گیا کہ جنگ کب ختم ہو گی؟ تو میں نے بتایا تھا کہ اپریل 1945ء سے جون 1945 ء تک ختم ہو جائے گی۔اور اب ایک دوست نے