خطبات محمود (جلد 26) — Page 150
$1945 150 خطبات محمود بات پر حیرت ہوتی ہے کہ چونکہ مرزا صاحب کو کرشن کا مثیل کہا جاتا ہے اس لئے کرشن کی ہتک کی جاتی ہے۔ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت ہے جو عیسائی ہیں۔جتنی دفعہ آپ کو ایک دن میں مسیح موعود کہا جاتا ہے شاید سال بھر میں اتنی دفعہ کرشن نہ کہا جاتا ہو گا۔مگر انگریز کو کبھی اس بات پر غصہ نہیں آیا اور کسی انگریز افسر نے اسے حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک نہیں سمجھا۔اور اسے ہتک سمجھنا دراصل غلام ذہنیت کا نتیجہ ہے۔اس میں ہتک کی کونسی بات ہے۔کیا ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معمولی شان کا سمجھتے ہیں ؟ ہم تو انہیں تمام مذاہب کا موعود یقین کرتے ہیں اور اس لئے ہم جب آپ کو حضرت کرشن کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں تو حضرت کرشن کی عزت کو بڑھاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہت حاصل کرنے سے سب انبیاء جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے گزر چکے ہیں عزت پاتے ہیں۔کیونکہ آپ موعود گل ادیان ہیں اور یہ انبیاء ایک ایک دین کے موعود تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مثیل کرشن ہونے کا اعلان 1904ء میں کیا تھا۔اور اس دعویٰ پر چالیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔مگر یہ بنک کا سوال پانچ سال قبل سے ہی کیوں پیدا ہوا ہے۔پہلے 35 سال تک کیوں پیدا نہیں ہوا۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ یہ سیاسی اغراض کے ماتحت شور مچایا جاتا ہے۔اور پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر یہ بات کسی عدالت میں گئی اور وہاں کسی احمدی نے یہ پیش کیا کہ ہندو لٹریچر میں حضرت کرشن کو خدانخواستہ چور وغیرہ کہا گیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ مکھن پچر الیا کرتے تھے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان کے ساتھ مماثلت کو ان کی ہتک سمجھنے والے ان کی طرف ایسا گند منسوب کرتے ہیں اور ہم کو جو انہیں چور کہنے والوں کو چور اور خبیث سمجھتے ہیں ان کی ہتک کرنے والا کہا جاتا ہے۔یہ ان کو چور کہہ کر پھر بھی ان کی عزت کرنے کے دعویدار ہیں۔اور ہم جو انہیں پر ہیز گار اور نیک یقین کرتے ہیں ان کے خیال میں اُن کی ہتک کرنے والے ہیں۔اگر کسی ایسی بات کے متعلق حکومت کی طرف سے کوئی ایسا مقدمہ چلایا گیا اور اس میں اس قسم کے تمام حوالے پیش کئے گئے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔اگر کوئی آریہ ہم پر حضرت کرشن کی ہتک کا الزام لگاتا ہے تو وہ بھی غلطی کرتا ہے