خطبات محمود (جلد 26) — Page 144
$1945 144 خطبات حمود معقول پسند شریف الطبع اور بات پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کرنے والا ہے۔جب بھی کوئی معقول بات اس کے سامنے پیش کی جائے اُس پر غور کرتا ہے۔مگر جو معاند بن کر سامنے کھڑا ہو اُس سے یہ امید رکھنا کہ اُس پر کسی نصیحت کا اثر ہو گا خصوصاً اشتعال کے موقع پر ایک بالکل غلط خیال ہے۔اسی طرح باہر کے آریہ سماجیوں کی حالت بھی بالکل مختلف ہے۔ان میں بھی جہاں تک مجھے ان سے ملنے کا موقع ملا ہے شریف الطبع اور بات پر سنجیدگی سے غور کرنے والوں کی کثرت ہے اور وہ معقول بات پر غور کرتے ہیں۔لیکن قادیان کے آریوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ ہمارے دلائل پر غور کریں گے صحیح نہیں۔جیسے محاذ جنگ پر جو سپاہی کھڑے ہوں وہ گولی چلانا ہی جانتے ہیں اسی طرح یہ لوگ ہماری مخالفت میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ ان کے سامنے دلائل پیش کرنا چنداں مفید نہیں ہو سکتا۔وہ خود بھی جب ہمارے خلاف تقریر کرتے ہیں تو یہ سمجھ کر نہیں کرتے کہ ان کی تقریروں کو سن کر یہاں کے احمدی، احراری یا آر یہ ہو جائیں گے بلکہ محض ہمیں اشتعال دلانے کے لئے کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو ان کو غصہ تو دلائیں۔اسی طرح ہماری طرف سے ان کے جواب میں جو جلسے کئے جاتے ہیں اُن سے بھی وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔احمدی خواہ اپنی تقریروں میں کیسا نرم لہجہ کیوں نہ اختیار کریں اور نرمی سے کام کیوں نہ لیں۔ہماری ترقی اور کامیابیوں کو دیکھ کر چونکہ ان کے دل جلتے ہیں اس لئے وہ صرف غصہ میں آکر گالیاں دیتے ہیں۔جیسا کہ قاعدہ ہے۔پس ایسے موقع پر ہمارے جلسوں کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو سکتا۔پھر رات میں نے کہا تھا کہ ہمارے دوستوں کو خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ پروٹیسٹ (Protest) کرتے ہیں اور حکومت اِس پر توجہ کرے گی۔ایسا خیال کرنے والے شاید سمجھتے ہیں کہ یہاں ابو بکر اور عمر کی حکومت ہے مگر یہاں ابو بکر اور عمر حکومت نہیں کرتے۔بلکہ سیاسی لوگ کرتے ہیں اور سیاسی لوگ ہمیشہ اکثریت کا خیال رکھتے ہیں۔امر تسر میں ہمارا جلسہ ہوا۔وہاں کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے پہلے اجازت دے دی مگر جب احرار نے فساد انگیزی شروع کی تو اس نے جلسہ کو روک دیا۔حالانکہ اُسے کوئی مذہبی تعصب نہ تھا۔ہمارے آدمی جب اُس سے ملے تو اس نے صاف کہا کہ میں اپنے ضلع میں فساد برداشت نہیں کر سکتا خواہ وہ