خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 105

$1945 105 خطبات محمود بھاگ گئے۔کہا تو یہی جاتا ہے کہ انگریزوں نے ظلم نہیں کیا لیکن حق یہ ہے کہ اُس وقت انگریزی فوج نے لوٹ مار اور قتل و غارت میں کوئی کمی نہیں کی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے ہندوستانیوں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا اور ان پر ظلم کئے جس کے بدلہ میں پھر انگریزوں نے کئی قسم کے مظالم توڑے۔انہوں نے ضرور بدلہ لیا اور سخت لیا۔ہم نے خود سنا ہے۔غیروں سے کیا ہماری اپنی نانی جان مرحومہ سنایا کرتی تھیں کہ میری عمر اس وقت آٹھ نو سال کی تھی۔ہماری آنکھوں کے سامنے سپاہی ہمارے مکان کے اندر گھسے۔اُس مکان کے اندر ہمارے والد کئی ماہ کے بیمار لیٹے ہوئے تھے جو غدر میں گھر سے بھی نہ نکلے تھے اور نہ نکل سکتے تھے۔ایک شخص نے اُن کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ بھی غدر میں شامل تھا اور اس پر سپاہیوں نے ان کو مار دیا۔پھر یہ بھی ہم نے سنا ہے کہ بعض بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے کیر چیس 7 اور بر چھے مار مار کر مار دیا گیا۔بے شک ابتدا میں ہندوستانیوں نے بھی انگریزوں سے ایسا ہی سلوک کیا تھا لیکن یہ کہ انگریزوں نے ان کے مقابلہ میں محبت کا نظارہ دکھا یا یہ بالکل غلط ہے۔انگریزی فوج نے بھی اس کے مقابلہ میں وہ وہ مظالم توڑے کہ ان واقعات کو سن کر دل بیٹھنے لگ جاتا ہے۔بے تحاشا لوگ مارے جاتے تھے اور کھلے بندوں کوٹے جاتے تھے۔سپاہی گھروں کے اندر گھس جاتے اور عورتوں کی بے حرمتی کرتے۔اس لئے لوگ اپنی عور تیں اور بچے لے کر بھاگ رہے تھے کہ کسی طرح شہر سے نکل کر گاؤں میں پہنچ جائیں اور لچھپ جائیں۔اُس وقت طبیبوں کا یہ خاندان جو دیانت میں مشہور ہے اس کے بزرگ اُس وقت مہاراجہ پٹیالہ کے طبیب تھے۔چونکہ مہاراجہ پٹیالہ انگریزوں کے ساتھ تھے اس لئے انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ یہ ہمارے طبیب ہیں، ان کی ہمارے دل میں عزت ہے ان کے گھر کو نہ لُوٹا جائے۔چنانچہ پٹیالہ کی فوج ان کے گھر کے پہرہ پر مقرر کر دی گئی تھی۔اُس وقت جو لوگ بھاگ رہے تھے وہ ان کے دروازے کے آگے سے گزرتے تھے اور اپنے زیور اور روپوں کی پوٹلیاں ان کی ڈیوڑھی میں پھینک جاتے تھے۔سینکڑوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے دس دس سال بعد روپوں اور زیورات کی تھیلیاں ان کے ہاں سے آکر لیں۔وہ پوٹلیاں جن کا کوئی گواہ نہ تھا، وہ پوٹلیاں جو کسی کے ہاتھ میں نہیں دی گئی تھیں دس دس سال بعد آکر ویسی کی ویسی لے