خطبات محمود (جلد 26) — Page 104
$1945 104 خطبات محمود ذکر ہوتا ہو گا کہ مغلا ہے تو کافر پر ہے بڑا سچا۔تو اُس مجلس میں جتنی صادق روحیں اور نیک فطرتیں ہوں گی وہ یہی کہتی ہوں گی کہ کاش! یہ کفر ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر ای بود بخدا سخت کافرم 6 کہ لوگ مجھے کافر کافر کہتے ہیں میرا قصور کیا ہے جس کی وجہ سے وہ مجھے کا فر کہتے ہیں۔مجھے تو یہی نظر آتا ہے کہ خدا کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بے انتہا طور پر میرے اندر پائی جاتی ہے۔اگر وہ اس کی وجہ سے مجھے کا فر کہتے ہیں تو خدا کی قسم! میں سب سے بڑا کافر ہوں۔اب جو راستباز اور صادق روحیں ہوں گی وہ تو یہی کہیں گی کہ اگر یہ کفر ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق کافر ہے تو خدایا! ہمیں بھی ایسا کافر بنا دے۔کیونکہ سعید الفطرت انسان سمجھتے ہیں کہ روح کی صفائی اور پاکیزگی اور روحانی ترقی جب اسی میں ہے تو یہی چیز ہم چاہتے ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ گندی چیز ہمیں ملے۔تو جب کسی انسان کے اندر سچائی اور دیانت پائی جائے تو دنیا خواہ اُس کے ساتھ کتنا ہی تعصب اور بغض رکھے مگر اُس کو کوئی حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا اور کتنا ہی شدید سے شدید دشمن کیوں نہ ہو وہ اس چیز سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔تو اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے اندر ایسا اخلاص اور ایسا تقویٰ پیدا کر دیا تھا کہ ابتدائی ایام میں شدید سے شدید دشمن بھی اس بات کو تسلیم کرتا تھا کہ اگر احمدی کسی بات کے متعلق گواہی دے گا تو ہم مان لیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔اور اگر ہم احمدی کے پاس امانت رکھیں گے تو وہ کبھی ضائع نہیں ہو گی۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کبھی خیانت نہیں کرے گا۔دتی کا ایک مشہور خاندان ہے جو طب کی وجہ سے بہت مشہور ہے لیکن حق یہ ہے کہ اتنی عزت انہوں نے اپنے شہر میں اس فن کی وجہ سے حاصل نہیں کی جتنی عزت کہ دیانت کی وجہ سے اس کو حاصل ہوئی۔حکیم اجمل خان صاحب اسی خاندان میں سے تھے۔یہ خاندان دیانت کی وجہ سے اتنا مشہور تھا کہ غدر کے موقع پر جب سخت گڑ بڑ ہوئی تو لوگ وہاں سے