خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 82

خطبات محمود 82 82 $1944 کیا چیز ہے؟ بعض نے کہا کہ کیا اس کے معنے نبوت کے ہیں ؟ اور بعض نے کہا کہ اس کہنے سے کیا حاصل ہوا جبکہ یہ بات پہلے ہی ظاہر تھی۔یہ ذہنی کشمکشیں لازمی چیز ہیں اور لوگوں کے دماغی تفاوت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی کشمکش کا پیدا ہونا کوئی تعجب انگیز امر نہیں۔وہ لوگ جو پوچھتے ہیں کہ کیا اس کے معنے نبوت کے ہیں؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ یاد رکھو! مومن کے لیے وہی بات سمجھتی ہے جو اس کا خدا اسے کہتا ہے اور اتنی ہی بات اسے بجتی ہے جتنی اس کا خدا اُسے کہنے کا حکم دیتا ہے۔مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنے قیاسات کے پیچھے چلے۔اس کا فرض یہ ہے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی نگاہ رکھے۔جہاں اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ کھڑے ہو جاؤ وہاں ا اسے کھڑا ہو جانا چاہیے اور جہاں اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ آگے بڑھو وہاں اُسے آگے بڑھنا چاہیے۔تمہارا حق نہیں ہے کہ تم کوئی نیا لفظ بناؤ یانئے معنے اور نیا مفہوم پیدا کرنے کی کوشش ہے کرو۔جو کچھ خدا نے کہا وہ یہ ہے کہ مصلح موعود کی وہ پیشگوئی جو اس زمانہ کو انوار و برکات کے لحاظ سے ویسا ہی زمانہ ثابت کر رہی ہے جیسے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ تھا میرے ہی ذریعہ سے پوری ہوئی ہے اور نشانات اور علامات نے بھی بتا دیا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے ہی ذریعہ سے پوری ہوئی ہے۔اگر تم میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو میں تم کو بتاتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے نزدیک در حقیقت کسی چیز کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔اگر کسی شخص کو خدا بھی مل جائے تو وہ کہیں گے کہ پھر کیا فائدہ ہوا؟ سوال یہ ہے کہ اسلام اس وقت ایک ایسے دور میں سے گزر رہا ہے جو ضعف اور کمزوری کا دور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پھر اسلام کی حفاظت کی بنیاد رکھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دشمن کی طرف سے اسلام پر وہ تمدنی حملہ نہیں ہوا تھا جو آج کیا جا رہا ہے۔پس خدا نے چاہا کہ آپ کی پیشگوئی کے می مطابق موجودہ زمانہ میں ایک ایسے شخص کو اپنے کلام سے سر فراز فرمائے جو روح الحق کی برکت اپنے ساتھ رکھتا ہو ، جو علوم ظاہری اور باطنی سے پر ہو اور جو دشمن کے ان تمدنی حملوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تشریح، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تشریح اور قرآن کریم کے منشاء کے مطابق دُور کرے اور اسلام کی حفاظت کا کام سر انجام دے۔