خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 81

خطبات محمود 81 $1944 دن مل سے پہلے سال کے اندر ہی مطالبہ سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہو گئی۔جب میں نے پہلے جماعت سے 27 ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا ہے تو واقع میں میں یہی سمجھتا تھا کہ میرے منہ سے رقم نکل تو گئی ہے مگر اس کا جمع ہونا بظاہر بڑا مشکل ہے۔لیکن اللہ تعالی کا یہ کس قدر عظیم الشان فضل ہے کہ 27 ہزار کیا اب تک 27 ہزار سے پچاس گنے سے بھی زیادہ رقم آچکی ہے اور یہ اتنی زیادہ رقم ہے کہ مولوی محمد علی صاحب بھی حیرت سے پوچھتے ہیں کہ اگر تیروانی لاکھ روپیہ اکٹھا ہوا تھا تو وہ گیا کہاں ہے ؟ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ اتنا روپیہ جمع ہوا ہو۔کیونکہ ی اگر آیا ہوتا تو یہ سارا روپیہ غالباً ان کے خیال میں ہمیں حفاظت کے ساتھ ان کے پاس بھیجوا دینا ہے چاہیے تھا یا کم سے کم ان کا حصہ تو انہیں ضرور بھجوادینا چاہیے تھا۔مگر وہ روپیہ آیا اور وہیں خرچ نہیں ہوا جہاں اس خد ا کا منشاء تھا جس نے میری زبان سے اس تحریک کا اجراء کر ایا۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان کام ہونے والا تھا۔سو وہ کام ہوا اور خدائی سامانوں سے ہوا اور ان ذرائع سے ہو ا جو ہمارے اختیار میں نہ تھے۔ا پھر اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ وہ علومِ ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا"۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے دعوے کرنے کا عادی نہیں ہوں لیکن باوجود اس کے میں اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ اسلام کے وہ مہتم بالشان مسائل ہے جن پر روشنی ڈالنا اس زمانہ کے لحاظ سے نہایت ضروری تھا خدا تعالیٰ نے اُن کے متعلق میری زبان اور میرے قلم سے ایسے ایسے مضامین نکلوائے ہیں کہ میں دعوی کر کے کہہ سکتا ہوں کہ اُن تحریروں کو اگر ایک طرف کر دیا جائے تو یقیناً اسلام کی تبلیغ دنیا میں نہیں کی جاسکتی۔قرآن کریم میں بہت سے ایسے امور ہیں جن کو اس زمانہ کے لحاظ سے لوگ سمجھ نہیں سکتے تھے جب تک دوسری آیات سے ان کی تشریح نہ کر دی جاتی۔اور یہ خدا تعالیٰ کا بے انتہا فضل ہے کہ اس نے میرے ذریعہ سے اُن مشکلات کو حل کیا اور اُن آیات کے صاف اور روشن معنے دنیا کے سامنے ظاہر کیے۔باقی میں نے ایسے امور کے متعلق کبھی دعوے نہیں کیے۔جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ میں دعوے کرنے کا عادی نہیں ہوں۔اب بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو میرے اس تازہ اعلان پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کے ایک الہام کی بناء پر کیا، کہتے ہیں کہ یہ دعوی ہے۔