خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 748 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 748

$1944 748 خطبات محمود رکاب میں سے نکالو۔نوکر نے جیب سے اُس کے تحریر کردہ احکام کی فہرست نکالی اور کہا:۔دیکھ لو سر کار اس میں شرط یہ لکھی نہیں۔اب بھلا یہ بات کس کے ذہن میں آسکتی ہے کہ یہ بھی لکھ دوں کہ اگر میں کبھی گھوڑے سے گر پڑوں اور پاؤں رکاب میں پھنس جائے تو اسے نکالنا بھی تمہارا فرض ہے۔تو اس قسم کا تعلق بالکل بے معنی ہوتا ہے۔کسی کا باپ، بیٹا، بھائی یا کوئی اور عزیز اس طرح گر رہا ہو اور یہ وہ ساتھ ہو تو خواہ اسے کوئی حکم نہ بھی ہو وہ فورا بھاگ کر اس کی مدد کو پہنچے گا۔بلکہ اگر کوئی ہے تعلق رشتہ داری کا نہ ہو تب بھی انسان ایسی حالت دیکھ کر بے تاب ہو جاتا ہے۔لیکن جہاں سارا تعلق احکام پر ہی ہو وہاں یہی مثال صادق آتی ہے جو اس آقا اور نوکر کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جب عمرہ کے لیے گئے تو حدیبیہ کے مقام پر کفار نے ان کو روکا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق یہی مناسب سمجھا کہ صلح کر لی جائے۔صلح کی شرائط طے کرنے کے لیے مکہ کا ایک سر دار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بات چیت کرنے لگا۔آپ اُس کی پیش کردہ شرائط پر جرح فرماتے اور بعض شرائط کے متعلق فرماتے کہ یہ سختی ہے اسے بدلو۔وہ بعض دفعہ آپ کی بات ہے مان لیتا اور بعض دفعہ زور دیتا کہ آپ اُس کی بات مان لیں۔وہ بوڑھا آدمی تھا اِس لیے بعض اوقات کہتا کہ دیکھو میں باپ کی جگہ ہوں میری بات مان لو اس میں آپ کے لیے فائدہ ہے۔اور باتیں کرتے وقت وہ بھی آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگاتا اور کہتا کہ میری یہ بات مان لیں۔یہ عام طریق ہے کہ بڑی عمر کے آدمی جب کسی سے کوئی بات کرنے لگتے ہیں تو کبھی اپنی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ! میری اس داڑھی کا لحاظ کرو اور میری بات مان لو اور کبھی دوسرے کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں۔اب یہ کوئی شریعت کا حکم نہیں تھا کہ اگر کوئی کافر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگائے تو صحابہ کا فرض ہے کہ اُسے رو کیں۔مگر محبت خود حکم تجویز کر لیتی ہے۔جب اس نے دو تین بار اس طرح آپ کی داڑھی من کو ہاتھ لگایا تو ایک صحابی سے نہ رہا گیا اور انہوں نے آگے بڑھ کر تلوار کا گندا اُس کے ہاتھ پر مار کر اُس کا ہاتھ ہٹادیا اور کہا اپنا ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کو می