خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 733 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 733

خطبات محمود 733 $1944 چندہ اکٹھا دینا تھا اس لیے اُن کے لیے یہ رعایت رکھی گئی تھی کہ گزشتہ تمام سالوں کا اکٹھا چندہ ادا کرنے کی وجہ سے اُن پر بار تھا۔اب چونکہ وہ بار اُن سے اتر چکا ہے اور واپسی کی طرف اِس طرز پر کودنا ہے کہ گیارھویں سال کا چندہ کم از کم نویں سال کے برابر ہو۔تو ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی موجودہ حیثیت کے مطابق گیارھویں سال کا چندہ دیں نہ کہ نویں سال کے برابر جو ان کی موجودہ حیثیت کے معیار سے بہت گری ہوئی چیز ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے اندر خدا کے فضل سے اخلاص پایا جاتا ہے۔خطبہ شائع ہوئے ابھی چار پانچ روز ہی ہوئے ہیں کہ جماعت نے اپنے اخلاص کا نمونہ دکھانا شروع ہے کر دیا ہے۔میرے پاس بالعموم ایسی چٹھیاں آئی ہیں کہ خطبہ پڑھنے کے بعد پہلے ہم نے گیارھویں سال کا وعدہ نویں سال کے برابر لکھا دیا مگر دوسرے دن سخت شرم آئی کہ پیچھے کی ہے طرف جانے کی بجائے ہم اپنا قدم خدا تعالیٰ کی راہ میں آگے کیوں نہ رکھیں۔اس لیے ہم نویں سال کے برابر چندہ دینے کی بجائے گیارھویں سال کا چندہ دسویں سال سے بڑھا کر پیش کرتے ہیں۔اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے خطبہ پڑھنے کے بعد ہی گیارھویں سال کا چندہ دسویں سال سے بڑھا کر پیش کر دیا اور اُنہوں نے لکھا کہ ہم تو زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے آگے ہی بڑھیں گے پیچھے کی طرف بھاگ کر ہم اپنا ثواب کیوں کم کریں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تھوڑی سی عقل رکھنے والا انسان بھی سوچ سکتا ہے کہ ان کی قربانی کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں ہے کرے گا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین اور دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔جو ہر قربانی کے موقع پر نہ صرف یہ کہ ثابت قدم رہتے ہیں بلکہ می ہر قربانی کے موقع پر دو سر اقدم پہلے قدم سے بڑھا کر رکھتے ہیں اور دین کے راستہ میں ہر قربانی کو چی خدا تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں۔اور جس طرح انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح وہ ہر قربانی کو زیادہ سے زیادہ کر کے پیش کرتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ عام طور پر تو جماعت میں یہی احساس پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی قربانی کو گھٹا کر پیش کرنے کی بجائے پہلے سے بڑھا کر پیش کریں تا کہ وہ زیادہ ثواب حاصل کریں۔لیکن سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جو آٹھویں یانویس یاد سویں سال میں آکر اس تحریک میں ہے