خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 724

خطبات محمود 724 $1944 کریں گے۔مگر پھر بھی 18،17 سو روپیہ اُن کے سفر خرچ کا اندازہ ہے۔اگر ہم یہ اندازہ کریں کہ ہر سال 33 فیصدی مبلغ واپس بلائے جائیں گے اور 33 فیصدی اُن کی جگہ بھیجے جائیں گے اور ہر ایک کے سفر خرچ کا تخمینہ پندرہ سو روپیہ رکھیں تو صرف یہی خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا ہو گا اور یہ صرف سفر خرچ ہے۔اور اگر مبلغین کو چار چار سال کے بعد بلائیں تو یہ خرچ پھر بھی ہے ہزار روپیہ ہو گا اور کم سے کم اتنے عرصہ کے بعد ان کو بلا نا نہایت ضروری ہے تا اُن کا اپنا 3 ایمان بھی تازہ ہو تا رہے اور اُن کے بیوی بچوں اور خود اُن کو بھی آرام ملے۔اب تو یہ حالت ہے کہ حکیم فضل الرحمان صاحب کو باہر گئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور انہوں نے اپنے بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔جب وہ گئے تو اُن کی بیوی حاملہ تھیں۔بعد میں لڑکا پیدا ہوا اور ان کے بچے پوچھتے ہیں کہ اماں ! ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے ؟ اسی طرح مولوی جلال الدین مین صاحب شمس انگلستان گئے ہوئے ہیں اور صدر انجمن احمد یہ اس ڈر کے مارے ان کو واپس نہیں بلاتی کہ ان کا قائم مقام کہاں سے لائیں۔اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں ہم جو اُن کے منتظر ہیں۔اُن کا بچہ کبھی کبھی میرے پاس آتا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہتا ہے کہ میرے ابا کو واپس بلا دیں۔پھر اتنا عرصہ خاوندوں کے باہر رہنے کا نتیجہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ عور تیں بانجھ ہو جاتی ہیں اور آئندہ نسل کا چلنا بند ہو جاتا ہے۔ایک اور مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں اُن کے بچہ نے جو خاصا بڑا ہے نہایت ہی درد ناک بات اپنی والدہ سے کہی۔اس نے کہا اتاں دیکھو ! ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار ہوا تو اُس کا بیٹا اُسے پوچھنے کے لیے آیا۔تم نے ابا سے کیوں شادی کی جو کبھی ہمیں پوچھنے بھی نہیں آیا؟ اس نے بچپن کی وجہ سے یہ تو نہ سمجھا کہ اگر ہے یہ شادی نہ ہوتی تو وہ پیدا کہاں سے ہوتا اور اس طرح ہنسی کی بات بن گئی۔مگر حقیقت پر غور کرو تو یہ بات بہت ہی درد ناک ہے۔اس کے والد عرصہ سے باہر گئے ہوئے ہیں اور ہم اُن کو واپس نہیں بلا سکے۔پس یہ بہت ضروری ہے کہ مبلغین کو تین چار سال کے بعد واپس بلایا جائے اور ایک مبلغ کو واپس بلانے پر اگر وہ تھرڈ کلاس میں سفر کرے ، دک پر یعنی کھلے میدان میں ہے سوئے، ہزاروں میل لاریوں میں سفر کرے تو بھی اُس کا خرچ کم سے کم پندرہ سو روپیہ ہو گا اور اُس کے قائم مقام کے جانے کا خرچ بھی اتنا ہی ہو گا۔اگر چھوٹی سے چھوٹی سکیم بھی