خطبات محمود (جلد 25) — Page 713
خطبات محج محمود 713 $1944 یاد رکھو کہ جب تک کوئی قوم زندہ رہنا چاہتی ہے اُسے قربانیاں کرنی پڑیں گے۔قربانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں۔اور جس دن کوئی قوم یہ چاہے کہ خدا تعالیٰ اس سے قربانی کا مطالبہ نہ کرے، اس کو ابتلاء میں نہ ڈالے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ چاہتی ہے کہ خداتعالی اسے چھوڑ دے۔قربانی کے مطالبہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے یاد کر رہا ہے۔اور جو شخص قربانی کے دروازہ کے بند کیے جانے کا خیال بھی دل میں لاتا ہے وہ ایمان کی حقیقت سے واقف نہیں۔جو امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانی کے دروازہ کو بند کر دے وہ گویا دعا کرتا ہے کہ اے خدا! مجھے چھوڑ دے۔اے خدا ! مجھے بھول جا۔اے خدا! مجھے کبھی یاد نہ کر۔اور ظاہر ہے کہ ایسی دعا کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا۔مومن کا جواب تو قربانی کے ہر مطالبہ پر وہی ہوتا ہے اور وہی ہونا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شعر میں بیان فرمایا ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کے کہ لاف تعشق زند منم 3 یعنی اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ یار کے کوچہ میں ہر عاشق کا سرکاٹ دیا جائے گا تو اس ، فیصلہ کو سننے کے بعد جو سب سے پہلے یہ کہے گا کہ میں عاشق ہوں وہ میں ہوں گا۔خوب یاد رکھو کہ موت ہی میں دراصل زندگی ہے اور قربانی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے ہے پیش کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تیری نسل کو اتنا بڑھاؤں گا کہ اُسے شمار کرنا مشکل ہو گا۔آپ نے خداتعالی کی خاطر اپنی نسل کو تباہ کر دینا چاہا۔جب اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں تو اپنے بیٹے کو میری راہ میں قربان کر دے تو آپ نے کہا اے میرے رب ! میں اس کے لیے تیار ہوں۔اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں تیری نسل کو کبھی نہ مرنے دوں گا۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام تو سب نبیوں سے بلند تر ہے پھر یہ دعا کیوں سکھائی گئی کہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ