خطبات محمود (جلد 25) — Page 705
خطبات محمود 705 $1944 طرف توجہ کر رہا تھا، تعلیم کے طریق میں تبدیل کر چکا تھا مگر میر صاحب کی وفات پر اس طرف اور زیادہ توجہ ہوئی اور دو درجن کے قریب طلباء کو میں نے اعلیٰ علوم کی تکمیل کے لیے مقرر کر دیا ہے۔غرض اب جبکہ تحریک جدید کے پہلے دس سال کا دور ختم ہونے کو ہے، کام کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔اس کی مشکلات آگے سے بہت زیادہ واضح ہو چکی ہیں۔چنانچہ جماعت کو نہیں بھی اِس کا احساس ہو رہا ہے اور بعض دوست مجھے لکھ رہے ہیں کہ اس عرصہ میں ہمیں قربانی کی عادت ہو گئی ہے۔اب یہ دور ختم ہونے والا ہے۔ایسا نہ ہو کہ آئندہ ہم اس نیکی سے محروم ہو ہے جائیں۔کسی نہ کسی صورت میں اس قربانی کا دروازہ جماعت کے لیے گھلا رہنا چاہیے۔مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے دلوں میں کہتے ہوں گے کہ احمہ اللہ ہمیں اس تحریک میں ہے حصہ لینے کا موقع مل گیا۔اب دس سال پورے ہو رہے ہیں اور یہ تحریک ختم ہو جائے گی اور یہ ہمیں آرام کرنے کا موقع مل جائے گا۔اور عجیب بات ہے کہ میں اس موقع پر جب می تحریک جدید کے دس سال پورے ہونے کو ہیں اللہ تعالیٰ نے جماعت کے خلاف بعض فتنے پیدا کر دیے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت کے بعض دوستوں کے دلوں میں سستی کے خیالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ان فتن میں سے ایک تو یہ ہے کہ احرار نے پھر قادیان میں جلسہ منعقد کرنے کی کوشش کی اور اس کی بنیاد اس امر پر رکھی کہ میں نے دہلی میں کہا تھا کہ احراری قادیان میں آئیں اور جلسہ کریں۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط تھی۔اصل بات یہ تھی کہ جب دہلی میں جلسہ ہوا اور میں وہاں گیا تو وہاں بعض لوگوں نے ہمارے خلاف سخت فتنہ اٹھایا، بہت سے پتھر مارے اور حملہ کر دیا اور اِس طرح کوشش کی کہ جلسہ نہ ہو سکے اور لوگ ہماری باتیں نہ سن سکیں۔اس پر میں نے کہا کہ یہ طریق بالکل غلط اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ہماری باتیں سننے میں ان لوگوں کا کیا حرج ہے۔اگر یہ سمجھتے ہیں کہ حق اُن کے پاس ہے تو پھر ہماری باتیں سننے سے اُن کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے، اور پھر میں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ خیال ہے کرتے ہیں کہ جو لوگ احمدی ہوئے ہیں وہ اِس وجہ سے ہوئے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں سننے کا اُن کو موقع نہیں مل سکا تو بے شک اپنے نقطہ نگاہ کو احمدیوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہے