خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 686 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 686

خطبات محج محمود 686 $1944 خرید سکتا ہے، وہ شیخو پورہ میں بھی خرید سکتا ہے، وہ لاہور میں بھی خرید سکتا ہے، وہ فیروز پور میں بھی خرید سکتا ہے ، وہ جھنگ میں بھی خرید سکتا ہے۔اگر اُس نے قادیان میں زمین خرید لی تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ گیا۔لیکن اگر یہ زمین اُس نے اِس لیے خریدی ہے کہ اس سے دین کو طاقت حاصل ہو گی، مجھے یہاں رہنے کا موقع مل جائے گا، میری اولاد اس جگہ تعلیم حاصل کرلے گی اور وہ اپنی آئندہ زندگی میں دین کی خدمت کرنے کے قابل بن سکے گی۔اسی من طرح میرا یہاں زمین خرید نا جماعت کی اقتصادی ترقی کا موجب ہو گا تو اُس کا زمین خرید نا دین کا ایک کام بن جائے گا۔دانہ یہاں سے بھی پیدا ہو گا اور وہاں سے بھی۔لیکن اگر وہ شیخو پورہ یا پتے جھنگ یا گوجرانوالہ میں زمین خرید تا تو اس کا زمین خرید نا محض دنیا ہوتا۔لیکن یہاں اس کا زمین میں خریدنا دین بن گیا۔قادیان اور اُس کے نواح میں بہت سے احمدی زمینداروں نے زمینیں خریدی ہوئی ہیں اور اگر اُنہوں نے اسی نیت سے زمینیں خریدی ہیں کہ یہ امر مرکز سلسلہ کی تقویت کا موجب ہو گا اور خود اُن کے لیے اور اُن کی اولاد کے لیے روحانی برکات کے حصول کا موجب ہو گا تو اُن کا زمینیں خرید نا دنیانہ رہا بلکہ دین بن گیا اور وہ زمین خرید کر خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کے مستحق ہو گئے۔اگر وہ باہر زمین خریدتے تو روٹی ان کو وہاں بھی مل ہے جاتی اور ویسی ہی ملتی جیسے قادیان میں زمین خرید کر اُن کو روٹی ملتی ہے۔یہ تو نہیں ہوتا کہ قادیان میں زمین خریدنے والے کو غلہ زیادہ ملنے لگ جاتا ہے یا اس کی پیداوار خاص طور پر بڑھ جاتی ہیں ہے۔دنیوی لحاظ سے جس طرح باہر کی زمینوں سے ایک انسان فائدہ اٹھاتا ہے اُسی طرح قادیان کی زمین سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔لیکن چونکہ قادیان میں زمین خریدنے والے اپنی نیتیں ہیں درست کر لیتے ہیں اور وہ محض دنیا کے لیے نہیں بلکہ دین کی تقویت کے لیے یہاں زمینیں خریدتے ہیں اس لیے گو بظاہر ان کا قادیان میں زمینیں خرید ناویسا ہی ہے جیسے گجرات یا شیخو پورہ یا تی لاہور یا فیروز پور میں زمین خرید لے مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اُن کا یہ فعل قابل تعریف سمجھا جاتا ہے ہے اور وہ بہت بڑے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر تاجر اور صناع اپنی تجارت اور اپنے کارخانوں کے قیام میں اس بات کو مد نظر رکھیں کہ وہ اپنی تجارتوں اور اپنے کارخانوں کو ایسے رنگ میں چلائیں گے کہ اسلام کی مدد ہو، احمدیت کو مضبوطی حاصل ہو اور جماعت کی ہے