خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 685

$1944 685 خطبات محمود اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ دیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک اگر کام کی نیت درست ہو اور اسے تمدن ومذہب کی درستی کے لیے استعمال کیا جائے تو دنیا کا کام بھی دین بن جاتا ہے۔پس اگر ہماری جماعت کے تاجر اور صناع اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور اُن تین باتوں کو ہمیشہ مد نظر رکھیں جن کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے اور جو تمدن کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتی ہیں تو ان کی تجارت اور اُن کی صنعت و حرفت دنیا نہیں رہے گی بلکہ دین بن جائے ہے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باقی کی نو باتیں بھی نہایت ضروری ہیں مگر میں ان تین کا خصوصیت سے اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ یہ تین باتیں جماعتی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں۔اگر ہم تعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى سے کام لیں، اگر ہم حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کا اصل ہر وقت اپنے سامنے رکھیں اور اگر ہم مزدور کو اس کا حق دینے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ سے کام نہ لیں اور اُس کا حق بر وقت ادا کر دیں تو گو تجارت اور صنعت و حرفت بظاہر دنیا کمانا ہے لیکن چونکہ ایسا تاجر اور صناع دین کے لیے مفید وجو د ہو گا۔اس لیے اس کا دنیا کمانا دنیا کمانا نہیں ہو گا بلکہ دین کمانا ہو گا۔پس ہر صناع اور ہر تاجر اگر اپنے کام کو دین کی مدد کی امین نیت سے کرتا ہے تو یہ کام اُس کے لیے ثواب کا موجب ہو جائے گا۔لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو محض دنیا کمانا ہو گا جو اس کے لیے لعنت کا موجب بن جائے گا۔میں اس وقت تاجروں کی نسبت کلام کر رہا ہوں لیکن چونکہ ہماری جماعت میں ایک بہت بڑا طبقہ زمینداروں کا بھی ہے اور وہ بھی مال کماتے ہیں۔اس لیے میں زمینداروں کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ دیکھو! قادیان ہماری جماعت کا مرکز ہے اور مرکز ہونے کی وجہ سے قادیان میں جس قدر ہماری جماعت کی مضبوطی ہو گی اور جس قدر اُس کی طاقت اور قوت میں اضافہ ہو گا اُسی قدر مضبوطی ہماری سب جماعت کی طاقت اور اُس کی قوت کا موجب بنے گی۔اس حقیقت کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اگر ایک زمیندار قادیان یا اُس کے نواح میں ایک گھماؤں یا دو گھماؤں یا چار گھماؤں زمین خریدتا ہے تو زمین کے لحاظ سے وہ صرف دنیا کماتا ہے۔کیونکہ زمین ایک ایسی چیز ہے جو باہر بھی خریدی جاسکتی ہے۔وہ گجرات میں بھی خرید سکتا ہے، وہ گوجر انوالہ میں بھی مجھ