خطبات محمود (جلد 25) — Page 569
$1944 569 خطبات محمود ابتدائی انسانی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ ہر شخص کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ جو پیشہ اپنے لیے مناسب سمجھتا ہے اُس پیشہ کو اپنی زندگی کا جزو بنا لے۔اگر وہ تجارت کرنا چاہتا ہے تو تجارت کرے، زراعت کرنا چاہتا ہے تو زراعت کرے، صنعت و حرفت اختیار کرنا چاہتا ہے تو صنعت و حرفت اختیار کرے، سائنس کی طرف توجہ کرنا چاہتا ہے تو سائنس کی طرف توجہ کرے۔مگر اس حق سے بھی جرمنی اور جاپان کو محروم کرنے کی سکیمیں تیار ہو رہی ہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے انڈسٹریل سکول بند کر دیے جائیں گے، انڈسٹریل سوسائیٹیاں توڑ دی جائیں گی اور اُن کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ صرف زمیندارہ کریں اور ضرورت سے زائد اُن کے پاس جو کچھ بچے وہ اُن سے خرید لیا جائے۔یہ وہی سلوک ہے جو ہندوؤں نے اچھوت اقوام سے روا رکھا اور جس کی بناء پر انہوں نے مدتوں تک اچھوتوں کو سر نہ اٹھانے دیا۔گویا وہی سلوک جو ہندوؤں نے اچھوت اقوام سے کیا تھا اب خطرہ ہے کہ مغربی اقوام اپنی مفتوح قوموں سے ویسا ہی سلوک کریں اور پھر دنیا کے ایک طبقہ کو بدترین غلامی کے چکر میں پھنسا دیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہندوؤں نے تو اچھوت اقوام سے ہزاروں سال تک فائدہ اٹھالیا۔اب ممکن ہے مغربی اقوام بھی اس طریق سے ایک لمبے عرصہ تک فائدہ اُٹھا لیں۔ہندوؤں کی تاریخ بہت مبالغہ آمیز ہے۔اس لحاظ سے ہزاروں سال کہنا تو صحیح نہیں ہو سکتا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے ڈیڑھ دو ہزار سال تک اچھوت اقوام کو اپنے ماتحت رکھا اور اس طرح ان سے فائدہ اٹھاتے رہے۔پس اس مثال کی بناء پر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اب ممکن ہے یہ قومیں دوسری قوموں کو اچھوت بنا کر اُن سے لمبے عرصے تک فائدہ اٹھاتی رہیں۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ گواچھوت قوموں سے ہندو ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے ایک طبقہ کو اچھوت بنا کر خود ہندو قوم بھی ایک ہزار سال سے مغلوب ہوتی چلی آئی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ چوڑھوں سے مغلوب نہیں ہوئی، وہ سانسیوں سے مغلوب نہیں ہوئی، وہ بھیلوں سے مغلوب نہیں ہوئی مگر وہ پہلے یونانیوں اور پھر پٹھانوں اور بعد میں مغلوں سے مغلوب ہو گئی۔اور اس مغلوبیت کی وجہ یہی تھی کہ ملک کی اکثریت ایسی تھی جسے حکومت سے کوئی ہمدردی نہیں تھی، اس کے معاملات سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اس کی خیر خواہی