خطبات محمود (جلد 25) — Page 567
$1944 567 خطبات محمود خیال کر لینا کہ اس نظام کے قیام کے لیے کسی فوجی طاقت کی ضرورت نہیں نادانی اور حماقت ہے۔یہ نظام قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ فوج کی بہت بڑی طاقت نہ ہو تاکہ جب بھی کوئی قوم لیگ آف نیشنز کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرے اُس کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے اُسے اپنے ناجائز طریق عمل سے روک دیا جا سکے۔غرض میں نے وضاحت کے ساتھ اس امر کا ذکر کر دیا تھا کہ لیگ آف نیشنز اس وقت تک صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکتی اور نہ ہے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے جب تک اُس کے ساتھ فوجی طاقت نہ ہو۔میں نے یہ اصل اپنی کتاب میں بیان کیا، اپنے لیکچروں میں بیان کیا اور بار بار اس بات پر زور دیا مگر یور بین ہے لوگوں کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا گیا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ہم تو دنیا کو لڑائی سے بچانا چاہتے ہیں ہے اور آپ پھر ایسی تجویز پیش کر رہے ہیں جس میں فوج اور طاقت کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔انگلستان میں جب میرے لیکچر ہوتے تو ان کے بعد عام طور پر لوگ یہی کہا کرتے کہ یہی تو وہی پرانی جنگی سپرٹ ہے جو دنیا میں پہلے سے قائم ہے۔ہمارے نزدیک یہ تجویز درست نہیں، ہم نے لیگ کے اصول ایسے رکھے ہیں جن میں فوجی طاقت کو استعمال کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آسکتی۔اُس کے اصول میں یہی روح کام کر رہی ہے کہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ دوسروں کو سمجھا کر صلح اور پیار کی طرف مائل کیا جائے اور اسے بدعنوانیوں سے روکا جائے۔انسانی فطرت ایسی ہے کہ جب کسی غلط بات پر قائم ہو جائے تو خواہ اُسے ہزار کہا جائے وہ اپنی بات کو غلط تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔یورپین مدبرین نے اُس وقت میری بات کو قابل اعتناء نہ سمجھا۔مگر آج تمام مدبرین یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ لیگ آف نیشنز کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس فوجی طاقت نہیں تھی۔اگر اس کے پاس فوجی ہیں طاقت ہوتی تو اُس کا یہ انجام نہ ہوتا۔حالانکہ یہ وہ اصول ہے جو قرآن کریم نے آج سے پورے چودہ سوسال پہلے سے بیان کیا ہوا ہے، قرآن کریم میں موجود ہے اور میں نے بڑی وضاحت سے آج سے کئی سال پہلے اس کا اپنی کتابوں اور اپنے لیکھروں میں ذکر کر دیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ لیگ آف نیشنز کے ساتھ فوجی طاقت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔لیکن اُسوقت توجہ نہ کی گئی جس کا نتیجہ نہایت تلخ اور افسوس ناک نکلا۔