خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 516

خطبات محمود 516 $1944 غیر اللہ والے ہلتے رہتے ہیں اور بھی ایک جگہ پر نہیں ٹھہرتے۔مگر جو اللہ کو پالیتے ہیں وہ کبھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتے چاہے زمین و آسمان ہل جائیں۔اسی لیے فرمایا يَايَتُهَا النَّفْسُ المُسنَّة ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً 20 جون خدا تک پہنچ جاتا ہے اس کے اندر کوئی اضطراب نہیں رہتا اور اسے طمانیت نصیب ہو جاتی ہے۔پس أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کی ترتیب والفاظ میں ایک حکمت ہے کہ انسان غیر اللہ کے واسطہ سے اللہ تک پہنچتا ہے اور اُن چیزوں سے جو غیر اللہ ہیں پہلے اُن کو اپنا مقصود سمجھ کر اُن سے رغبت رکھتا ہے۔مگر پھر آہستہ آہستہ اُن کو چھوڑ کر اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔اگر کوئی شخص ایسی چیزوں سے رغبت رکھتا ہے جو غیر اللہ ہیں اور پھر اُن کو چھوڑنا نہیں چاہتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے سفر میں چلنے والا انسان کسی جگہ پر ستانے کے لیے بیٹھ جائے اور پھر وہاں سے نکلنے کو اُس کا دل نہ چاہے تو ایسے شخص کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اُس کے دماغ میں خرابی ہے۔پس بچپن میں دوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہونا اور بات ہے۔کیا۔لیکن جب انسان جو ان اور عظمند ہو کر بھی اصل مقصود کو چھوڑ کر غیر اللہ سے رغبت رکھتا ہے تو یہ بچپن سے بھی گئی گزری بات ہے اور اُس کی ضد اور جہالت کی علامت ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کا علم ہونے پر بھی غور نہ کرے اور دوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہو تو آخر اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے (الفضل 6 اگست 1944ء) اور اس پر زنگ لگ جاتا ہے"۔1 : الانعام: 80،79 2 : متى باب 19 آیت 5 3 :النازعات:45 34501 4 : العنكبوت: 70 : بخاری کتاب المناقب بَاب مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ 6 : سیرت ابن ہشام۔الجزء الاول صفحہ 464،463 مطبوعہ قاہرہ 1964ء 7 1 :الفجر:28، 29