خطبات محمود (جلد 25) — Page 512
خطبات محمود 512 $1944 جو خلاء محسوس کرتا ہے اُس کو پُر کرنے کے لیے وہ مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہ چیز میری ضرورت کو پورا کر دے۔جب اُس چیز سے اُس کی تسلی نہیں ہوتی تو پھر دوسری چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید اس چیز سے میری ضرورت پوری ہو جائے۔پھر جب اُس چیز سے بھی اُس کا خلاء پر نہیں ہو تا تو تیسری چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہاں میرا مقصد مل جائے۔جب اس سے بھی اسے طمانیت حاصل نہیں ہوتی تو پھر چوتھی چیز سے رغبت کرتا ہے کہ شاید یہی میرا مقصود ہو۔یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ان تمام چیزوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے اور آخر خدا تک جا پہنچتا ہے۔پس لا اِلهَ راستہ ہے إِلَّا اللهُ کا۔جو شخص اپنے خدا سے ملنے کی سچی تڑپ رکھتا ہے اور اُس کو پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے وہ اپنی اس تڑپ میں ہر غیر اللہ کو اللہ سمجھ لیتا ہے اور اُس کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔یعنی اُس کی طرف کامل طور پر متوجہ ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب اُس کو اللہ مل جاتا ہے تو اُس کو پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر اس مقام سے نہیں ہلتا۔جس طرح ایک شخص زید کی تلاش میں ہو اور اُسے پتہ نہ ہو کہ زید کہاں رہتا ہے ؟ وہ ایک دروازہ پر جا کر دستک دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا زید یہاں رہتا ہے۔اندر سے جواب ملتا ہے یہاں نہیں آگے جاؤ۔آگے جا کر وہ دوسرے دروازے پر دستک دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا زید یہاں ہے؟ وہاں سے بھی یہی جواب ملتا ہے کہ یہاں نہیں آگے جاؤ۔یہاں تک کہ مختلف دروازوں پر پھرتے پھراتے جب اُسے زید کا دروازہ مل جاتا ہے تو پھر وہاں بیٹھ جاتا ہے۔پس اس شخص نے غیر زید کا جو دروازہ بھی کھٹکھٹا یا وہ غیر زید کی محبت میں نہیں کھٹکھٹایا بلکہ زید کی محبت اور زید سے ملنے کی تڑپ میں کھٹکھٹایا۔پس ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ غیروں کے دروازہ پر پھر تارہابلکہ زید کی محبت اور تڑپ اُس سے یہ کام کروا رہی تھی اور وہ ہر غیر زید کا دروازہ، زید کا دروازہ سمجھ کر کھٹکھٹاتا رہا۔اُسے غیروں سے محبت نہیں تھی بلکہ زید کی محبت اور زید کی تلاش تھی یہاں تک کہ اس کی تڑپ اس کو زید کے دروازے تک لے میں آئی۔پس بچپن میں غیر اللہ سے روشناس ہونا اللہ تک پہنچنے کا رستہ ہے۔کیونکہ وہ ہر غیر اللہ کے پاس اللہ سمجھ کر جاتا ہے لیکن عقلی "لا إلهة" " إِلَّا الله متک پہنچنے کا رستہ نہیں ہے