خطبات محمود (جلد 25) — Page 450
خطبات محمود 450 $1944 اپنا مضمون لکھ کر بھیجیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے تو انکار کیا اور فرمایا یہ لوگ سخت بد زبانی کرنے والے ہیں ان کے وعدوں کا مجھے کوئی اعتبار نہیں۔مگر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے یقین دلایا کہ ایک ڈاکٹر جو میر ادوست بھی ہے اس جلسہ کا سیکرٹری ہے اور اُس نے پختہ یقین دلایا ہے کہ اس جلسہ میں کوئی ایسی بات نہیں ہو گی جو دوسرے مذاہب والوں کے لیے دل شکنی کا باعث ہو، نہ کسی مذہب کے بانی کے خلاف کوئی بات کہی جائے گی بلکہ صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں ہی بیان کی جائیں گی۔اور پھر تحریر اً بھی انہوں نے اقرار کیا کہ یہ جلسہ نہایت پر امن ہو گا، اس میں کسی مذہب کے بانی کے خلاف کوئی بات نہیں کہی ہے جائے گی بلکہ ہر مذہب کا نمائندہ صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں کے بیان کرنے پر ہی اکتفا کرے گا۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مضمون لکھا اور چونکہ مولوی عبد الکریم صاحب جو اس قسم کے مضامین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے جلسوں میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے فوت ہو چکے تھے اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد مبارک میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب اور حضرت خلیفہ اول سے یہ مضمون پڑھوا کر سنا۔شاید مرزا خدابخش صاحب سے بھی یہ مضمون سنا گیا۔مگر ان تینوں کے پڑھنے پر آپ کی تسلی نہ ہوئی اور آپ نے فرمایا، کسی کی آواز اونچی نہیں، کسی کی آواز بھرائی ہوئی ہے اور کسی میں کوئی اور نقص ہے۔مگر بہر حال آپ نے فیصلہ فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول یہ مضمون پڑھ دیں۔کیونکہ آپ کا عالمانہ رنگ ہے اور مضمون کی عبارت وہاں صحیح طور پر پڑھی جائے گی۔جب اِس مضمون کے سنائے جانے کا فیصلہ ہوا تو آریہ سماج کے اس جلسہ میں شمولیت کے لیے قادیان سے بھی اور باہر کی جماعتوں کی طرف سے بھی بہت سے لوگ چلے گئے۔کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ جلسہ نہایت پر امن ہو گا، کسی تقریر میں بد زبانی سے کام نہیں لیا جائے گا اور نہ دوسرے مذاہب اور ان کے بانیوں کے خلاف اعتراضات کا دروازہ کھولا جائے گا بلکہ ہر مذہب کا نمائندہ صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں کو ہی بیان کرے گا۔اور یہ لازمی بات ہے کہ جب ایسا ہو کہ ہر مذہب والا صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیوں اور اس کی تعلیم کے محاسن کو ہی بیان کرنے پر اکتفا کرے،