خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 435

خطبات محج محمود 435 $1944 جو عہد یدار چالیس سال سے کم عمر کے ہوں اُن کے لیے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری قرار دے دیا گیا۔اب تک یہ صرف تجربہ ہی تھا۔اب اسے مستقل کیا جارہا ہے اور میں یہ قاعدہ بنانے والا ہوں کہ ہندوستان میں جہاں جہاں بھی جماعت ہے وہاں کے نوجوانوں کے لیے جو پندرہ سال سے زیادہ اور چالیس سال سے کم عمر کے ہوں مجلس خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا لازمی ہو گا اور ضروری ہو گا کہ وہ اس میں شامل ہوں۔اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ قریب زمانہ میں اس کا اعلان کرنے والی ہے۔اور اس خطبہ کے ذریعہ میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو نوجوان اس میں شامل نہ ہو گا یہ سمجھا جائے گا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لیے آمادہ نہیں اور وہ اپنی زبان سے اپنے آپ کو قومی غدار قرار دیتا ہے۔اور ہر وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو اس میں شامل کرنے میں حصہ نہ لیں گے سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے بچوں کو سچا مسلمان بنانے کی ہے خواہش نہیں رکھتے۔اور ہر وہ جماعت جو اس تحریک کو کامیاب بنانے میں حصہ نہ لے گی اور اپنے نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرے گی سمجھا جائے گا کہ وہ اپنا فرض ادا نہیں ہے کر رہی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے قومی زندگی کے لیے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ قوم کے ہے نوجوان پہلے سے بہتر ہوں۔پس اس کے لیے میں خدام کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں ذکر الہی، نمازوں کو پابندی اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنے اور تہجد پڑھنے کی عادت ڈالیں۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک خدام میں یہ باتیں پوری طرح نظر نہیں آتیں۔نماز مغرب کے بعد مسجد مبارک میں جو مجلس ہوتی ہے اُس میں بعض دفعہ کوئی ایسا سوال بھی کر دیتا ہے جو عقل کے خلاف ہوتا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ اس پر نوجوان ہنس پڑتے ہیں۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ کھٹا کھٹ کی وجہ سے وہ نماز خراب کرنے لگ جاتے ہیں۔ابھی میں سنتیں ہی پڑھ رہا ہو تا ہوں کہ وہ نیچے سے اوپر آنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح نماز خراب کرتے ہیں اور اُن کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس طرح شور کر کے نماز خراب نہ کریں۔تنظیم کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تعلیم دی جائے اور نوجوانوں کو سمجھانا چاہیے کہ نماز بہت ضروری چیز ہے اسے وقار کے ساتھ اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم ابھی ایک رکعت سنتوں کی بھی ہے