خطبات محمود (جلد 25) — Page 434
خطبات محمود 434 $1944 ہوتی تھی۔دانے بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے اور جھاڑ 1 بھی بہت کم ہو تا تھا۔بے شک ایک قسم کی گندم یہاں ہوتی تھی جسے وڈانک 2 کہتے تھے۔اس کا دانہ بے شک موٹا ہو تا تھا مگر اسے ہونا اور پرورش کرنا بہت مشکل تھا۔عام طور پر جو گندم یہاں ہوتی تھی اس کے دانے چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے۔مگر انگریزوں نے بیجوں کو ترقی دے دے کر کئی اقسام کی اعلی امینی درجہ کی گندم پیدا کر دی ہے۔کوئی 518 ہے، کوئی 591 وغیرہ وغیرہ ہے اور اس طرح بڑھاتے بڑھاتے کئی قسمیں گندم کی پیدا کر لی ہیں جن کا دانہ بھی اچھا ہو تا ہے اور جھاڑ بھی زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح کپاس کا حال ہے۔اس کے بیج کو بھی ترقی دے کر ایسی اقسام پیدا کر لی ہیں کہ دیسی روئی سے بہت اعلیٰ روئی پیدا ہونے لگی ہے جس کے ریشے بھی لمبے ہوتے ہیں اور قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔دیسی روئی اگر بارہ روپے من بکتی ہے تو وہ بائیس روپے من بکتی ہے ہے۔جھاڑ بھی زیادہ ہوتا ہے، کپڑا بھی اس سے عمدہ اور نرم تیار ہوتا ہے۔تو اللہ تعالی جس قوم کو پیدا کرتا ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ صرف یہ نہ دیکھے کہ ہے وہ ایمان لے آئی ہے بلکہ یہ بھی دیکھے کہ اُس کی آئندہ نسل پہلی نسل سے اچھی ہو۔اگر پا لوگ آدھ گھنٹہ تہجد پڑھتے ہیں تو اگلی نسل کے لوگ ایک گھنٹہ پڑھنے والے ہوں۔ایک نسل ہے اگر نماز کو اس طرح پڑھتی ہے کہ پانچ نمبر ملتے ہیں تو اگلی نسل ایسی ہونی چاہیے کہ جو سات آٹھ نمبر حاصل کرنے والی ہو۔پہلی نسل کی نسبت دوسری نسل عرفان میں زیادہ ہو۔اگر اس بات کا من خیال رکھا جائے تو دنیا میں ہدایت پھیل سکتی ہے ورنہ اگر یہ نہ ہو تو قوم کا روحانی فیض بند ہو جائے گا۔بچپن میں ہمیں کئی دفعہ لدھیانہ آنا جانا پڑتا تھا۔وہاں ایک دریا ہے جسے بڑھا دریا نی کہتے ہیں۔اُس کا پانی بہت کم ہے اور وہ ریت میں ہی جذب ہو جاتا ہے۔اسی طرح جو قوم اپنی ہیں آئندہ نسل کی روحانی ترقی کا خیال نہیں کرتی اس کا روحانی فیض بند ہو جاتا ہے۔اسی غرض کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ کا قیام کیا تھا۔بڑوں کا فرض ہے کہ نوجونوں کی اصلاح کریں۔مگر میں نے خدام الاحمدیہ کی تحریک اس لیے جاری کی کہ اگر بڑے نوجوانوں کی اصلاح کے کام میں سستی کریں تو نوجوان خود اس کی کوشش کریں۔پہلے یہ صرف قادیان کے لیے ہی تھی۔پھر قادیان میں اسے لازمی کر دیا گیا اور باہر کی جماعتوں میں ہے