خطبات محمود (جلد 25) — Page 405
$1944 405 خطبات محمود دعوی سے قبل براہین احمدیہ جیسی کتاب تصنیف فرمائی اور اس میں اسلام کی صداقت کے متعلق جو دلائل پیش فرمائے وہ اتنے شاندار اور اتنے بے مثل تھے کہ تقوی رکھنے والے انسان انہیں دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہ دلائل کوئی ایسا انسان نہیں لکھ سکتا جو مفتری ہو۔یہ تو ایسا ہی انسان لکھ سکتا ہے جو اسلام کو دوسرے تمام مذاہب پر غالب کرنے والا، اسلام کو زندہ اور زبر دست دین ثابت کرنے والا ہو۔کیونکہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک جھوٹے اور مفتری سے ایسا کام لے۔میں نے کہا یہی بات دیکھ کر مولوی نورالدین صاحب اور دوسرے مخلص لوگوں نے آپ کو صادق مان لیا اور پھر اور لوگ مانتے چلے گئے۔کہنے لگا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ میں نے کہا براہین احمد یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھنی شروع کی تھی نا مکمل رہ گئی ہے اسے پورا کر دو۔اگر ایسا کر دو تو میں تمہاری بیعت کر لوں گا۔مگر اس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔تو جن کے سپر د خدا تعالیٰ کوئی کام کرے وہ مامور ہوں یا غیر مامور، اُن کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ایسا مصلح یا تو پہلے نبی کے کام کو مکمل کرنے کے لیے آتا ہے۔اُس وقت نئے دین کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس دین کے قبول کرنے والوں میں قوت علیہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہوتی ہے۔جو کام جاری ہوتے ہیں انہیں مکمل کرنا اس مصلح کا کام ہوتا ہے۔جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام آئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع آئے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ میں ان کے کام کو پورا کرنے کے لیے آیا ہوں۔اس صورت میں دیکھنا یہ چاہیے کہ ایسے مصلح نے وہ کام پورا کر دیا یا نہیں۔اگر کر دیا تو اس کے آنے کا مقصد حل ہو گیا اور اُس کے آنے کی غرض پوری ہو گئی۔دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ ہم مصلح اور مامور نئی شریعت لاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پسر موعود اور ہے مصلح موعود کے متعلق جو پیشگوئی کی وہ اپنے دعوی کی صداقت کے ثبوت کے لیے کی۔جب ہوشیار پور میں آپ نے دعا کی تو یہی کی کہ الہی میں جو دعوی صداقت اسلام اور برتری کا دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں لوگ اسے نہیں مانتے۔اے خدا! تو دنیا کو میری صداقت کا کوئی زندہ نشان دکھا۔اس دعا کی قبولیت میں آپ کو پسر موعود کا نشان دیا گیا۔اب پسر موعود کا ظہور ہے