خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 384

$1944 384 خطبات محمود اسلام کے احیاء کے لیے ضروری ہے۔بے شک یہ سال قربانیوں کا سال ہے مگر یاد رکھو! قربانیوں کے سال انسانوں پر کبھی کبھی آتے ہیں اور یہ دن خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے ہی نصیب ہوا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کے لیے رزق کی فراوانی کا یہ سامان پیدا کیا ہوا ہے کہ جنگ ہو رہی ہے اور انہیں پہلے سے زیادہ مال حاصل ہو رہا ہے۔پس جنگ کی وجہ سے جب تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے زیادہ مال مل رہا ہے تو تمہارا یہ بھی فرض ہے یہ کہ اس مال کو زیادہ سے زیادہ خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ورنہ دنیا میں کسی کے پاس مال نہیں رہا۔اگر کوئی شخص خدا کے لیے اپنے مال کو خرچ نہیں کرے گا تو اسے اپنی اولاد کے لیے یا مکان کے لیے یا بیماریوں کے علاج کے لیے اس مال کو خرچ کرنا پڑے گا۔پھر کیسا بد قسمت ہے وہ انسان جسے خدا کے لیے تو اپنا مال خرچ کرنے کی توفیق نہ ملی مگر دنیا کے لیے اُس نے اپنا مال خرچ کر دیا۔پس اب موقع ہے کہ تم آگے بڑھو اور بڑھو اور اپنی خوشی سے خدا کی راہ میں اپنے مالوں کو قربان کر دو۔اگر تم خوشی سے اپنے اموال خدا کی راہ میں نہیں تناؤ گے تو یاد ہے رکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض دفعہ انسان بڑی بڑی مشکلات میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔پس تم خوشی سے اپنے اموال قربان کرو تا کہ خدا تم کو کسی ایسی تکلیف میں نہ ڈالے جس پر روپیہ الگ خرچ ہو اور تمہیں الگ مصیبت برداشت کرنی پڑے۔بعض دفعہ گھروں میں ہے بیماریاں آجاتی ہیں تو پانی کی طرح روپیہ بہانا پڑتا ہے۔اگر وہی روپیہ انسان اپنی خوشی سے ہے خدا کی راہ میں دے دے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُسے آنے والی بیماریوں سے بھی بچالیتا ہے۔یا اگر بیماری نہیں آتی تو بعض دفعہ کوئی مقدمہ بن جاتا ہے اور اس پر روپیہ خرچ ہونا ہے شروع ہو جاتا ہے۔یا کسی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے اور اُس میں رو پیسہ برباد ہو جاتا ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو اِن دونوں امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں نے ابھی سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف جماعت کو چندہ کے لیے توجہ نہیں دلائی اور نہ اس وقت میر امنشاء اس کے لیے کسی چندہ کی تحریک کرنا ہے۔میں نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ دو کام ایسے ہیں جو یورپ کی دہریت کے رڈ کے سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔سامان تو سب قرآن مجید میں موجود ہیں مگر ہمارا کام یہ بھی ہے کہ ہم قانونِ قدرت کو اُس کے کلام کی