خطبات محمود (جلد 25) — Page 359
خطبات محمود 359 $1944 کے چہرہ پر سرخی کی ایک لہر دوڑ گئی۔اس نے سر نیچے ڈال دیا اور کہا ہاں میں نے ایسا کیا ہے۔یہ ایک واقعہ میری ساری عمر کا ہے۔اس واقعہ پر 24، 25 سال بلکہ اِس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب اُس نے یہ جواب دیا۔تو حیثیت ہی بدل گئی اور مجھے یوں معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ حج ہے اور میں مجرم ہوں جو اس کے سامنے پیش ہوں۔تو بیچ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر تم اسے اپنے اندر پیدا کر لو تو دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتے ہے را ہو۔مگر سچ صرف اپنے اندر پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ اپنی اولاد، بیوی، بھائی بہنوں، ماں باپ، خاوند سب کے اندر سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور سب کے متعلق سچ بولا جائے۔بہت لوگ ہیں جو شاید اپنے متعلق تو سچ بول دیں مگر جب سوال پید ا ہوتا ہے بیوی بچوں کا ، ماں باپ کا یا دوسرے رشتہ داروں کا تو اسی بیچ کرنے لگتے ہیں۔پھر یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ سچ بیان کرتے پھرو۔بلکہ اُس وقت سچ بولو جب وہ شخص پوچھے جسے خدا تعالیٰ نے پو چھنے کا حق دیا ہے۔اس کے سامنے کی بات بیان کر دو۔اگر کسی کا کوئی عیب دیکھو تو سچ ہے بولنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے ہر جگہ بیان کرتے پھرو۔یہ سچ نہیں بلکہ یہ غیبت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ صحابہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! کیا کسی کے ہے متعلق سچی بات کا بیان کرنا بھی غیبت ہے؟ آپ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے۔اگر بیان کر دہ بات یچ نہ ہو تو وہ جھوٹ ہے 6 تو سچ بولنے کے یہ معنے نہیں کہ دوسروں کی کمزوریوں کو ہر جگہ ہے بیان کرتے پھرو۔بچی کو اپنے مخالف سے بدلہ لینے کا ذریعہ بنانا جائز نہیں۔یہ بیچ نہیں بلکہ بعض اور کینہ ہے اور مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔سچ بولنے کے معنے یہ ہیں کہ جب قاضی کے مین سامنے شہادت کا موقع آئے تو سچی بات بیان کر دو اور جب پوچھا جائے کہ فلاں واقعہ تم نے دیکھا ہے وہ کس طرح ہوا۔تو بغیر اس بات کا خیال کیسے کہ سچا واقعہ بیان کرنے سے تمہارے دوست یا بھائی یا باپ یا بیوی یا خاوند پر کوئی الزام آئے گا کچی بات بیان کر دو۔اپنے کسی دوست یا عزیز کے بارہ میں جھوٹا پروپیگنڈا بھی کبھی نہ کرو۔اگر تم سچ نہیں بول سکتے تو جھوٹ بھی نہ بولو اور چپ رہو۔پس اگر قوم کے اندر سچائی قائم کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہی ہے کہ بغیر اس می بات کا خیال کیے کہ تمہارا کوئی دوست یا عزیز رشتہ دار زیر الزام آتا ہے صحیح واقعہ بیان کر دو