خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 333

خطبات محمود 333 $1944 پس مذہب کی غرض صرف یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کا تعلق قائم کیا جائے۔مذہب کا قیام ایسی ہی باتوں سے ہو سکتا ہے جو دین سے تعلق رکھنے والی ہوں اور جن سے خدا کی محبت پیدا ہوتی ہو۔پس ہر چیز جس سے خدا کی محبت پیدا ہوتی ہے مذہب کا ایک جزء ہے۔نماز مذہب کا ایک جزو ہے، روزہ مذہب کا ایک جزو ہے، زکوۃ مذہب کا ایک جزو ہے، حج مذہب کا ایک جزو ہے، صدقہ و خیرات مذہب کا ایک جزو ہے۔لوگوں سے حُسنِ سلوک کرنا، ان کے ساتھ مروت سے پیش آنا، ان سے رافت، شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرنا یہ سب چیزیں مذہب کا جزو ہیں۔اس لیے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا اور اس کے ساتھ انسان کا تعلق قائم ہوتا ہے۔دنیا کے عام لوگ جو مذہب کا نام اختیار کر کے لوگوں کو ایک سوسائٹی کی شکل دینا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ سے براہ راست محبت پیدا کرنے کے جو ذرائع ہیں اُن کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔وہ مذہب کے پیچھے نہیں چلتے وہ اپنی نفسانی خواہشات کا نام مذہب رکھ لیتے ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں لوگ مذہب کے نام پر زیادہ قابو آتے ہیں۔پس ایسا انسان جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل تعلق پیدا کرنا چاہتا ہو اُس کے لیے تمام عبادتیں جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ اور انسانی نفس کی صفائی کرنے والی ہیں نہایت ہی اہمیت رکھتی ہے ہیں۔وہ ان کو کسی طرح نظر انداز نہیں کر سکتا، کسی طرح ان کو چھوڑ نہیں سکتا اور کسی طرح ہے ان کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ہم صحابہ کو دیکھتے ہیں ان کی ساری زندگی ہی ان باتوں میں لگی رہتی تھی جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہیں۔لیکن اس زمانہ کے لوگ ان باتوں کو تو چھوڑ دیتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہیں اور ان باتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو اُن کی شہرت اور عزت کا موجب ہوں یا قوم میں اُن کا وقار قائم کرنے کا موجب ہوں۔اصل چیز کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی۔مثلاً اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں نماز کی قدر بہت کم ہو گئی ہے۔مسجد میں تو ہیں ہے مگر نمازیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ویران پڑی رہتی ہیں۔میں جب مصر گیا تو وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں میں نے دیکھا ظہر کی نماز میں صرف اتنے آدمی تھے کہ اُس کے محراب میں ہی آگئے۔آگے امام تھا اور پیچھے چار پانچ آدمی کھڑے تھے۔یہ اس شہر کا حال ہے ہے