خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 332

خطبات محج محمود 332 $1944 علامت نہیں بلکہ خدا کے تعلق کا ایک ذریعہ ہے۔اسی طرح اور جس قدر عبادات ہیں وہ سہ کی سب خدا کے تعلق کی علامت نہیں بلکہ خدا کے تعلق کا ذریعہ ہیں۔لیکن بنی نوع انسان سے محبت اور ہمدردی کرنا اور اُن سے تعلق اور محبت رکھنا اور اُن سے شفقت کے ساتھ پیش آنا خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اس کی ایک علامت بھی ہے۔یعنی اگر کوئی شخص بنی نوع انسان سے محبت رکھتا ہے، ان کے ساتھ اخلاص سے پیش آتا ہے ، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا ہے، اُن سے کینہ اور بغض نہیں رکھتا، اُن سے لڑائی جھگڑا نہیں بڑھاتا۔اس کے دل میں عفو ہے، رحمت ہے ، شفقت ہے تو یہ امر صرف خدا کے تعلق کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہی نہیں ہو گا بلکہ اس بات کی علامت بھی ہو گا کہ یہ تعلق پیدا ہو چکا ہے۔بشرط فعل ایمانا اور احتساباً کر رہا ہو۔یہ ایک لازمی شرط ہے کہ کوئی چیز اپنی ظاہری صورت میں دین کے لحاظ سے نیکی نہیں بن سکتی جب تک وہ ایمانا اور احتسابانہ ہو۔کام کرنے والا ایمان کے لحاظ سے کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرے۔مثلاً اگر وہ بنی نوع انسان سے محبت کرتا ہے تو وہ اس لیے محبت نہیں کرتا کہ بنی نوع انسان سے محبت کرنے سے میری قوم ترقی کرے گی۔اگر وہ اس نیت سے ان کے ساتھ محبت کرتا ہے تو یہ خدا تعالیٰ کے تعلق کی علامت نہیں ہو گی۔لیکن اگر اس کے حُسنِ سلوک کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے یہ میرے رب کی مخلوق ہے اور میرے رب کا حکم ہے کہ ان سے محبت کروں تو اس کا یہ فعل یقینا دین کا حصہ بنے گا اور اس کے لیے خد اتعالیٰ کے قرب کا موجب ہو گا۔اسی طرح اگر اُس کے دل میں یہ احساس رہتا ہے کہ میں بنی نوع انسان سے محبت کروں گا تو ہم سب کا روحانی باپ اس نیکی کی وجہ سے میرے ساتھ بھی نیک سلوک کرے گا تو یہ فعل اس کے لیے روحانی درجات کی بلندی کا موجب ہو گا۔پس ضروری ہے کہ ایک طرف انسان کا ایمان مضبوط ہو اور دوسری طرف احتساب اُس کے مد نظر ہو کہ میرا پیدا کرنے والا خدا اِس کو پسند کرے گا اور یہ میرا عمل اس کے پاس محفوظ رہے گا۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصل چیز خدا کی محبت ہی ہے اور شفقت علی خلق اللہ اس کا ایک حصہ ہے۔کیونکہ وہ ایک علامت ہے اور علامت اپنے اصل سے علیحدہ حیثیت نہیں رکھتی۔