خطبات محمود (جلد 25) — Page 307
خطبات محج محمود 307 $1944 مجھے صحیح و سالم واپس پہنچا دیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض دوسروں کو نقصان پہنچے گا۔مگر ان لوگوں کی اصل غرض تو مجھے نقصان پہنچانا تھی۔لیکن جہاں سیالکوٹ کے پتھراؤ میں تین پتھر مجھے بھی آلگے تھے۔وہاں دہلی میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک بھی نہیں لگا۔غرض یہ ایک پیشگوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مثیل دہلی جائے گا اور دشمن اُس کو ضرر پہنچانے کی پوری کوشش کریں گے لیکن اللہ تعالی اسے بخیر و عافیت ما قادیان پہنچا دے گا۔اور یہ پیشگوئی قریبا 37 سال کے بعد خدا تعالی کے فضل سے پوری ہوئی۔ہر انصاف پسند کو سوچنا چاہیے کہ کیا 37 سال قبل ایسی بات بیان کر دینا جو اپنے وقت پر صحیح ہے ثابت ہو کسی انسان کی طاقت میں ہے ؟ یہ ان لوگوں کے لیے بھی قابل غور بات ہے جو پیغامی کہلاتے ہیں۔وہ بتائیں کہ اس پیشگوئی کے مطابق کون ہے جو دہلی گیا ؟ مخالفین نے اسے ضرر پہنچانے کی پوری کوشش کی اور اللہ تعالیٰ اُسے صحیح و سالم واپس قادیان لے آیا۔یہ لوگ تو اب قادیان آتے ہی نہیں بلکہ بہشتی مقبرہ کے لیے جو وصیتیں کر رکھی تھیں وہ بھی منسوخ ہے کرالیں۔ان میں سے اگر کوئی قادیان آئے تو اس کی نگرانی کرتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود السلام فرماتے ہیں دیکھا کہ دہلی گئے اور خیریت سے واپس آئے ہیں اور یہ رویا بتاتا ہے کہ قادیان میں ہی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل ہوں سے ہے اور جن کا دہلی جانا اور بہ سلامت واپس پہنچنا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانا اور صحیح و سالم وائیس پہنچنا ہو گا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الْمُؤْمِنُ يَى اَوْ يُرى لَهُ 4 جس روز میں نے دہلی جانا تھا اُسی روز یا اُس سے ایک روز قبل خلیفہ صلاح الدین صاحب کا خط مجھے دہلی سے ملا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ قادیان سے خبر آئی ہے کہ خلیفتہ المسیح نگینہ سے بخیریت واپس قادیان پہنچ گئے ہیں۔نگینہ انگوٹھی کے مرکز میں ہوتا ہے اور دبلی ہندوستان کا مرکزی شہر ہے۔دہلی کو ہندوستان میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نگینہ کو انگوٹھی میں۔گویا اس نے خواب میں بتادیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو رویا 13 جنوری 1906ء کو دیکھا تھا وہ اسی سفر کے متعلق تھا۔وہی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 37 سال