خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 272

خطبات محمود 272 $1944 یہ ہے کہ اُس کی موت کے ساتھ ساری دنیا یتیم ہو جاتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنے یتیم کا احساس ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کو اپنے یتم کا احساس نہیں ہوتا۔وہ شخص جس کا کوئی بچہ گم ہو جائے اگر اُس کا وہی گمشدہ بچہ کسی دوسرے وقت اسی شہر میں آجائے جس میں اُس کا باپ رہتا ہو اور وہ کوئی پیشہ اختیار کرلے مگر اُسے پتہ نہ ہو کہ میرا باپ بھی اسی شہر میں رہتا ہے تو جس دن اُس کا باپ مرے گا، اُس دن جس طرح اُس کے دوسرے بیٹوں پر قیامت آئے گی اسی طرح اُس پر بھی قیامت آجائے گی۔مگر اسے پینا نہیں ہو گا کہ مجھ پر قیامت آئی ہے ہوئی ہے۔اسی طرح انبیاء کی وفات ساری دنیا کے لیے قیامت ہوتی ہے۔مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ کچھ بچوں نے اپنے باپ کو پہچان لیا ہوتا ہے اور کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے باپ کو پہچانا نہیں ہو تا۔مثلاً جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی وفات ویسی ہی قیامت تھی صحابہ کے لیے جیسے وہ قیامت تھی یہودیوں کے لیے، جیسے وہ قیامت تھی عیسائیوں کے لیے، جیسے وہ قیامت تھی زرتشتیوں کے لیے ، جیسے وہ قیامت تھی جینیوں کے لیے اور بدھوں کے لیے۔کیونکہ جو نور آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے وہ ساری دنیا کے لیے تھا۔وہ نور عیسائیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور یہودیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور زرتشتیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور چینیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور جاپانیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور جزائر کے رہنے والوں کے لیے بھی تھا۔اور روحانی طور پر آپ ہر قوم کے باپ تھے۔مگر فرق یہ تھا کہ صحابہ نے اپنے باپ کو پہچان لیا تھا لیکن انہوں نے نہ پہچانا تھا۔پس قیامت تو دونوں پر آئی۔لیکن اس کا اندازہ احساس کی وجہ سے صرف صحابہ کو ہوا، دوسروں کو نہ ہوا۔ورنہ نقصان سب کو یکساں برداشت کرنا پڑا۔غرض جب ایک شخص کی موت اُس کے رشتہ داروں میں کہرام مچا دیتی ہے تو انسان خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ وہ شخص جس سے ساری مخوبی وابستہ ہو، جس سے ساری ہے وابستہ ہو، جس سے ساری ہدایت وابستہ ہو اُس کی موت کس قسم کی آفت اور مصیبت نہ ہوگی۔کیا ہی لطیف پیرایہ میں اس حقیقت کو ہندوستان کے ایک مشہور شاعر نے بیان کیا ہے۔غالب کی بیوی کا ایک بھتیجا یا بھانجا تھا جسے اُس نے بچپن سے پالا ہوا تھا۔جب وہ مرا تو