خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 271

خطبات محمود 271 $1944 ہوئی ہے۔جو لوگ اس کے دشمن تھے وہ بحیثیت قوم تباہ کر دیئے گئے اور جو لوگ اس کے ساتھی تھے وہ بحیثیت قوم ترقی پاگئے۔اور یوں بھی نبیوں کے رخصت ہونے پر ایک قیامت ہے دنیا میں آجاتی ہے۔اتنا عظیم الشان انسان جس کا کام خدا تعالیٰ سے خبریں پانا، اپنی جماعت کو تسلی دینا، اس کے لیے دن رات دعائیں کرنا اور ہدایت اور رُشد کے سامان اس کے لیے مہیا کرنا ہو اُس کا دنیا سے اُٹھ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ قیامت آنے والی ہے۔مگر افسوس کہ لوگ قیامت کے اس مفہوم کو نہیں سمجھتے اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نبی کے کچھ عرصہ بعد دنیا کے تمام لوگ یکدم مر جائیں گے اور اُن پر قیامت آجائے گی۔مگر جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے اور لوگ نہیں مرتے تو باوجود اس کے کہ بے وقوفی ان کی اپنی ہوتی ہے کہ قیامت کے ہم انہوں نے وہ معنے سمجھے ہوتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتے وہ اس طرف مائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔حالانکہ جو معنے انہوں نے سمجھے ہوتے ہیں وہی غلط ہوتے ہیں۔اور قرب قیامت کے معنے یہ ہوتے ہی نہیں کہ وہ قیامت آنے والی ہے جس میں تمام دنیا فنا کر دی جائے گی۔اس قیامت کے متعلق تو اللہ تعالی قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ وہ ہمارے ہی علم میں ہے کہ کب آئے گی کسی اور کو اُس کا علم نہیں۔1 پس نبی کی بعثت کے ساتھ جو قیامت وابستہ ہوتی ہے وہ وہی تین قسم کی قیامت ہوتی ہے ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے یعنی اس کے دشمنوں کی عام تباہی، اُس کے دوستوں کی عام ترقی اور پھر نبی کی وفات کے ساتھ جو تہلکہ واقع ہوتا ہے وہ بھی ایک بہت بڑی قیامت ہوتی ہے ہے۔آخر انسان کے لیے قیاس کا سامان موجود ہے۔لوگوں کے باپ مرتے ہیں، لوگوں کی مائیں مرتی ہیں، لوگوں کی بیویاں مرتی ہیں، لوگوں کے بچے بلکہ اکلوتے بچے مرتے ہیں، میں لوگوں کے بھائی مرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے اپنے ان عزیزوں کی وفات کس قدر صدمے کا موجب ہوتی ہے۔پھر وہ یہ خیال کر لیں کہ جو شخص ساری دنیا کا باپ تھا، جو می ساری دنیا کی ماں تھی، جو ساری دنیا کی پرورش کرنے والا تھا اس کی موت کتنا عظیم الشان من حادثہ نہ ہو گا۔اس کی موت کے ساتھ ہزاروں نہیں لاکھوں یتیم ہو جاتے ہیں۔بلکہ سچی بات تو یہ