خطبات محمود (جلد 25) — Page 239
خطبات محمود 239 $1944 ضروری ہو گا۔مساجد کے لیے روپیہ ضروری ہو گا۔اُس ملک کی مختلف زبانوں میں ہر قسم کا لٹریچر شائع کرنے کے لیے روپیہ ضروری ہو گا۔ان تمام اخراجات کو اگر ہم کھلے دل کے ساتھ برداشت کریں تو در حقیقت اسی صورت میں صحیح طور پر تبلیغ ہو سکتی ہے۔لیکن اگر ہم ان اخراجات کا کم اندازہ بھی کریں تو میرے نزدیک ہر مبلغ کے لیے اگر ہم پانچ سو روپیہ ماہوار کا خرچ رکھیں تب اونی طور پر ہم تبلیغ کا فرض ادا کر سکتے ہیں۔اس میں سے دو سو روپیہ تبلیغ پر خرچ ہو گا اور باقی روپیہ اس کے ماہوار کھانے پینے کے اخراجات پر صرف ہو گا۔لیکن اگر ہم خالی گزارے کا اندازہ لگائیں تب بھی تین سو روپیہ فی کس خرچ ہو گا اور چونکہ پانچ ہزار مبلغ ہیں ہم نے رکھنے ہیں اس لیے پندرہ لاکھ روپیہ ایک مہینہ کا خرچ ہو گا اور سال میں ایک کروڑ اسی لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔میں لاکھ روپیہ آنے جانے کے کرائے، سلسلہ کے لٹریچر کی اشاعت ہے مساجد کی تعمیر ، کتابوں کی تصنیف اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے رکھ لیں تو دو کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہو سکتا ہے۔لیکن یہ نہیں لاکھ روپیہ پانچ ہزار مبلغین کے لیے بہت ہی کم ہے ؟ اور اس قدر قلیل روپیہ سے صحیح طور پر تبلیغ نہیں ہو سکتی۔در حقیقت ہمارے پاس ساڑھے تین کروڑ روپیہ سالانہ ہونا چاہیے تب ہم پانچ ہزار مبلغ رکھ کر انہیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔لیکن ابھی تو ہماری یہ حالت ہے کہ اگر ہم اپنی ساری جائیدادیں بیچ دیں تب بھی ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اتنا روپیہ خرچ نہیں کر سکتے۔اگر ان مبلغوں کی تعداد کو کم کر دیا جائے اور ہم سر دست صرف دو سو مبلغ رکھیں تب بھی تم سمجھ لو کہ ساٹھ ہزار روپیہ ماہوار ان کے کھانے پینے پر خرچ آئے گا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ دو سو مبلغین کا سالانہ خرچ سات لاکھ بیس ہزار ہو گا۔دو اڑھائی لاکھ روپیہ اگر لٹریچر کی اشاعت اور دوسرے ضروری اخراجات کے لیے رکھ لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس دس لاکھ روپیہ سالانہ ہو تو ہم دو سو مبلغ رکھ سکتے ہیں۔لیکن ابھی تو ہمارے سارے بجٹ ملا کر یعنی تحریک جدید کی آمد اور صدر انجمن احمدیہ کی آمد اور دوسری آمد میں ملا کر دس بارہ لاکھ روپیہ کی رقم بنتی ہے۔اور اگر ہم اسی وقت دو سو مبلغ من رکھ لیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم باقی سارے کام بند کر دیں۔حالانکہ ہمارا کام صرف تبلیغ کرنا نہیں بلکہ جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے۔پس ضروری ہے کہ اس کے لیے علاوہ