خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 235

خطبات محمود 235 $1944 وہ بعض افراد اگر اسی راستہ پر چلتے ہوئے برکات و انوار کا مشاہدہ نہ کریں تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ رستہ ہی غلط ہے۔بلکہ یہی کہا جائے گا کہ خود اس کی قربانیوں میں کوئی نقص ہے۔ورنہ رستہ صحیح ہے اور وہی ایک طریق ہے جس پر چل کر برکت حاصل ہو سکتی ہے۔مگر میں کہتا ہوں اگر نتیجہ نہ بھی نکلے تو بھی ایک مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ قربانی کو ترک کر دے۔خدا تعالی۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کے نتائج سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔حضرت مسیح ناصری نے یو قربانی کی اور وہ صلیب پر چڑھ گئے۔مسیح کے بعد پطرس جو آپ کا خلیفہ ہوا اور جو آپ کا بڑا مقرب حواری تھا یہاں تک کہ آپ نے ایک دفعہ کہا میری جماعت کے لیے یہ ایک پہاڑ کی ہے طرح ہے وہ روم میں گیا اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔اسی طرح اور بہت سے لوگ آپ کی ہے جماعت میں سے مارے گئے مگر جو دنیوی ترقیات ہیں وہ تین سو سال کے بعد مسیحی قوم کو ی حاصل ہوئیں۔اب کیا مسیح نے صلیب پر لٹکنے سے اس لیے انکار کر دیا کہ میرے زمانہ میں تو حکومتیں نہیں آئیں گی میں نے صلیب پر لٹک کر کیا لینا ہے؟ یا کیا پطرس نے اِس وجہ سے اپنی جان قربان کرنے سے انکار کر دیا کہ جب مجھے حکومت میں حصہ نہیں ملے گا تو میں اپنی جان کیوں قربان کروں؟ نہیں بلکہ مسیح نے بھی صلیب کا مزہ چکھا اور پطرس نے بھی اپنی جان قربان کر دی اور اسی طرح پیکے بعد دیگرے اور ہزاروں لوگ قربانیاں کرتے چلے گئے۔کیونکہ وہ جانتے تھے ہماری ترقیاں شخصی نہیں قومی ہیں۔اور قومی ترقیاں قربانیوں کے بعد بعض دفعہ دو دو بلکہ تین تین سو سال کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔دیکھو! خدا تعالیٰ کی قدرت کا دنیا میں ہمیں ایک عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔قدرت نے کئی جاندار چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جو دنیا کے لیے قربانی کر رہی ہیں مگر خود ان کو ان می قربانیوں کے نتائج حاصل نہیں ہوتے۔مثلاً مونگا ایک کیڑا ہے جس کے نام پر کئی جزائر آباد ہیں۔مونگے میں یہ عادت پائی جاتی ہے کہ زمینیں پیدا کرنے کے لیے ایک مونگا دوسرے مونگے پر چڑھ کر جان دے دیتا ہے۔سمندر کی تہہ میں لاکھوں مونگے ہوتے ہیں۔دس میں ہے ہزار مونگے ایک دوسرے پر چڑھ کر مر جاتے ہیں۔پھر اُن پر دس بیس ہزار اور مونگے چڑھ کر مر جاتے ہیں۔ان پر دس میں ہزار اور مونگے چڑھ کر جان دے دیتے ہیں۔یہاں تک کہ ہے