خطبات محمود (جلد 25) — Page 232
خطبات محمود 232 $1944 دھونی رما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد بیٹھ جائیں۔اگر ہم اپنے آپ میں گرتے جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے آپ میں پاجامے جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے ، میں ٹوپی جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے آپ میں کلاہ جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے آپ میں عمامہ جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے آپ میں رومال جیسی وابستگی پیدا کر لیں، اگر ہم اپنے آپ میں جوتی جیسی وابستگی پیدا کر لیں تبھی ہم برکتوں کے مستحق ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔بے شک ایک گرتہ میں ذاتی طور پر کوئی برکت نہیں ہو سکتی۔مگر چونکہ وہ گرتہ آپ کے جسم سے لپٹا رہا اس لیے برکت حاصل کر گیا۔اسی طرح خواہ ہماری جماعت میں کس قدر کمزوریاں پائی جاتی ہوں جو لوگ مجازی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ لیٹے رہیں گے وہ برکت حاصل کر لیں گے۔اور جو لوگ آپ کے ساتھ نہیں لپٹیں گے وہ ہے برکت حاصل نہیں کر سکیں گے۔اول تو ہر شخص کو اپنے اندر ایسی خوبی پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے انوار کو حاصل کر سکے اور خود اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرر اور اس کی رحمت کا ایک نشان بن جائے۔لیکن جو شخص یہ خوبی اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا اسے کم سے کم گرتہ اور پاجامہ اور رومال اور عمامہ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ لپیٹا تو رہنا چاہیے۔ورنہ وہ ان برکات کو کس طرح حاصل کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف۔مقدر ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ نہایت ہی اہم ہے اور ایسے زمانہ میں یہ کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے جب دہریت اور عیش پرستی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔سائنس کے می ذریعہ اسلام پر نئے نئے حملے کیے جارہے ہیں اور ایمان کے خلاف دنیا میں ایک شدید زہریلی ہوا جاری ہے۔دوسری طرف ظلم یہ ہو رہا ہے کہ آدھی دنیا دوسری آدھی دنیا پر حکومت کر رہی ہے ہے اور لوگ مجبور ہیں کہ غلامی کی زندگی بسر کریں۔پہلے زمانوں میں دس، ہیں یا پچاس غلاموں پر حکومت کی جاتی تھی مگر آج وہ زمانہ ہے جب آدھی سے زیادہ دنیا غلام ہے۔یورپ اور امریکہ اور دوسری فاتح قومیں جن کے ماتحت اور ممالک ہیں چالیس پچاس کروڑ سے زیادہ نہیں ہیں بلکہ اس سے کچھ کم ہی ہیں۔لیکن باقی دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب لوگوں پر مشتمل ہے۔