خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 231

خطبات محمود 231 $1944 وہ چھپے ہوئے خزانے جن کو آپ زمین سے باہر نکال رہے تھے ، وہ دولتیں جن پر لوگوں کے بخل کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھا اور وہ سگے جن پر اس قدر میل جم چکی تھی کہ وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے اُن کو صاف کرنے اور دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے گھروں میں وہ مال ودولت پہنچانے اور ان کی روحانی غربت و افلاس کو دور کرنے اور انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر رہے تھے۔آپ کا گرتہ یا پاجامہ یہ نہیں کر رہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔گویا جس نے یہ کام کیا اس کے جسم کے ساتھ لگا ہوا گر تہ ، اُس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہے ہوا پاجامہ، اُس کے سر پر رکھا ہوا عمامہ ، اس کی جیب میں پڑا ہوا رومال اور اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی بجوتی بھی برکت والی ہو گئی۔کیونکہ جس شخص سے خدا نے کام لیا یہ چیزیں اس کے ہے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم اس کام کے مستحق نہیں، ہم اس کام کے لی اہل نہیں، ہم میں وہ خوبیاں نہیں جو اعلیٰ جماعتوں میں پائی جانی چاہئیں۔مگر چونکہ خدا نے ہمیں ہے ایک درجہ دے دیا ہے اس لیے اس کام کے ہونے کی وجہ سے ہمیں وہ برکات ملنی ضروری ہیں جو برکات ایسے کاموں سے وابستہ ہوتی ہیں۔لیکن بہر حال ہمارے لیے ان برکات کے حصول کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔دیکھو وہی گر نہ برکت پا گیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم سے جاملا۔اُسی پاجامہ نے برکت حاصل کی جو آپ کی ٹانگوں میں لپٹا رہا۔اُسی پگڑی نے برکت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہنا۔وہی کلاہ عزت کا مستحق ہوا جو آپ کے سر پر رہا، اسی ٹوپی نے عزت حاصل کی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سر پر رکھا، وہی رومال برکت حاصل کر گیا جو آپ کی جیب میں پڑا رہا اور وہی جوتی برکت والی قرار پائی جو آپ کے پاؤں میں رہی۔پس برکت ہے حاصل کرنے کے لیے کم سے کم اتنالگاؤ کا ہونا تو ہمارے لیے ضروری ہے جس طرح گر تہ آپ کے جسم سے چمٹا رہا، جس طرح پاجامہ آپ کی ٹانگوں سے لپٹا رہا، جس طرح رومال آپ کی ہے جیب میں پڑا رہا، جس طرح عمامہ آپ کے سر پر دھرا رہا، جس طرح جوتی آپ کے پاؤں میں پڑی رہی۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم الہی برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم ہیں