خطبات محمود (جلد 25) — Page 144
خطبات م محمود 144 $1944 دستور کے مطابق گھر والوں کو بھی مہمان کے ساتھ مل کر کھانا پڑتا تھا۔جب کھانا چنا گیا تو مرد نے اپنی بیوی سے کہا کہ دیے کی روشنی بہت مدھم ہے بنی اُونچی کر دو۔بیوی اٹھی اور اس نے اونچی کرنے کے بہانہ سے حق کو انگلی سے اس طرح دبایا کہ دیا کل ہو گیا اور اندھیرا چھا گیا۔وہ منی صحابی کہنے لگا تم نے یہ کیا کر دیا؟ اب جاؤ کسی ہمسائے کے ہاں سے آگ مانگ کر لاؤ کہ لیمپ کو میں روشن کیا جاسکے۔وہ کہنے لگی اب کہاں جاؤں، ہمسائے سوچکے ہوں گے اندھیرے میں ہی کھانا کھالیں۔مہمان بھی کہنے لگا۔اس تکلیف کی کیا ضرورت ہے میں اندھیرے میں ہی کھانا کھا لوں گا۔چنانچہ وہ دونوں اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور چونکہ کھانا صرف مہمان کے لیے تھا، انہوں نے بیٹھ کر خالی مچا کے مارنے شروع کر دیئے تاکہ مہمان کو یہی محسوس ہو کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں۔جب مہمان خوب سیر ہو کر کھا چکا تو انہوں نے برتن اٹھالئے اور سو گئے۔صبح می نماز کے لیے جب وہ مسجد میں گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھانے کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ گئے اور آپ نے اُس صحابی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا رات تم نے اپنے ہی مہمان کے ساتھ کیا کیا؟ وہ دل میں گھبرایا کہ نہ معلوم کیا غلطی ہو گئی ہے کہ رسول کریم ہے صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھ سے دریافت کر لی۔وہ کہنے لگا یارسول اللہ ! میں نے کیا کیا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ رات جب تم مہمان کو اپنے ساتھ لے گئے تو اُس کو کھانا کھلانے کے لیے تم نے بہانہ سے دیا بجھا دیا اور پھر میاں بیوی اس کے ساتھ بیٹھ کر خالی مچا کے مارتے رہے تاکہ اسے یہی محسوس ہو کہ گویا تم کھانا کھا رہے ہو۔جب آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا تو ہنس پڑے اور پھر صحابہ سے فرمایا تم جانتے ہو ہے میں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہمیں تو معلوم نہیں۔آپؐ نے فرمایا میر اخدا بھی یہ واقعہ دیکھ کر عرش پر ہنسا تھا اس لیے میں بھی ہنس پڑا 9 تو دیکھو وہ لوگ خدا تعالی کی طرف سے جو چیز آتی تھی اس کو بھی اپنے آپ پر مقدم ہے رکھتے تھے مگر آجکل کا عجیب زمانہ ہے کہ لوگ اپنی بچی ہوئی چیز خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔گویا نَعُوذُ بِاللہ وہ اُسے ایک بھنگی یا چمار کی حیثیت دیتے ہیں کہ اپنا بچا ہوا کھانا، اپنا بچا ہوا مال اور اپنی ضرورت سے بچی ہوئی اشیاء اس کی راہ میں دیتے ہیں۔یہ پسند نہیں کرتے کہ اپنی ہی