خطبات محمود (جلد 24) — Page 8
$1943 8 خطبات محمود اور ایک وقت میں ہی ختم ہوں گے۔پس اس سال کو نہ صرف یہ خصوصیت حاصل ہے کہ شمسی سال بھی جمعہ کے دن سے شروع ہوا اور قمری سال بھی جمعہ کے دن سے شروع ہوا۔بلکہ ایک زائد بات یہ بھی ہے کہ قمری اور شمسی دونوں سال ایک ہی زمانہ میں آگئے ہیں۔اور دونوں سالوں میں لگاتار کئی مہینوں کا جو فرق تھا وہ جاتا رہا ہے۔اور ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔کم سے کم 34،33 سال کے بعد ایک سال ایسا آتا ہے جس میں قمری اور شمسی دونوں سال اکٹھے شروع ہوتے اور قریباً اکٹھے ہی ختم ہوتے ہیں۔مثلاً اس سے اگلا قمری سال ہی لے لو وہ دسمبر میں شروع ہو جائے گا اور پھر اگلے دسمبر کے ابتدائی ایام میں ختم ہو جائے گا اور دوسالوں پر مشتمل ہو گا۔پس یہ بات کہ ایک ہی سال میں قمری اور شمسی دونوں سالوں کا آغاز ہو اور اسی سال کے اندراندر دونوں ختم ہو جائیں ایسا بہت ہی کم واقع ہوتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے 34،33 سال کے بعد ایک سال ایسا آتا ہے۔پس اس سال کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قمری اور شمسی دونوں سال اکٹھے ہو گئے ہیں۔اور دونوں کی ابتدا جمعہ سے ہوئی ہے۔گویا اس طرح چار جمعے اکٹھے ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ ایک پانچواں جمعہ بھی میں نے بتایا تھا اور وہ جمعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے۔اور پھر آپ کی پیدائش کا دن بھی جمعہ ہی ہے۔علاوہ ازیں یہ ساتواں ہزار سال ہے۔اور ساتواں دن اسلامی اور مذہبی اصطلاح میں جمعہ کو کہتے ہیں۔چنانچہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کرنے کا کام جمعہ کو ختم کیا۔ہفتہ پہلا دن ہوتا ہے۔اتوار دوسرا، سوموار تیسرا، منگل چو تھا، بدھ پانچواں، جمعرات چھٹا اور جمعہ ساتواں۔پس یہ ساتواں ہزار سال ہے اور ساتویں ہزار سال کے موعود کی پیدائش جمعہ کو ہی ہوئی ہے۔پھر اس دفعہ کا حج ساتویں دن کو ہوا۔اس دفعہ کا جلسہ احمدیہ بھی ساتویں دن شروع ہو ا۔اس سال کی ابتدا شمسی سال کے لحاظ سے بھی ساتویں دن کو ہوئی۔اور اس دفعہ کے قمری سال کی ابتدا بھی ساتویں دن سے ہی ہو رہی ہے۔پھر یہ دونوں شمسی اور قمری سال متوازی چل رہے ہیں۔اور ایک دوسرے سے الگ نہیں۔بلکہ ایک سال دوسرے سال کے اندر ہی ختم ہو جائے گا۔یہ ایک بہت بڑا اجتماع ہے نہایت مبارک ایام کا اور اس کو دیکھتے ہوئے