خطبات محمود (جلد 24) — Page 7
$1943 7 خطبات محمود ہونا چاہیئے تھا جمعہ کے دن سے ہی شروع ہوا۔اور یہ بات ہمارے اختیار سے نہیں ہوئی کہ کوئی کہہ دے ہم نے جان بوجھ کر جلسہ کو جمعہ سے شروع کر دیا۔بلکہ گورنمنٹ کے ایک فیصلہ کی رُو سے جس میں رخصتوں کو اس سال محدود کر دیا گیا تھا ہمیں جمعہ کے دن سے اپنا جلسہ شروع کرنا پڑا۔پھر شمسی سال بھی اس دفعہ جمعہ سے شروع ہوا اور آج قمری سال بھی جمعہ سے شروع ہو رہا ہے۔پھر اس میں ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ بالکل ممکن تھا کہ قمری سال گوجمعہ سے ہی شروع ہو تا مگر کسی اور مہینہ سے شروع ہوتا اور شمسی سال بھی گو جمعہ سے شروع ہو تا مگر اس کا آغاز اور مہینہ سے ہوتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس دفعہ قمری اور شمسی دونوں سالوں کو ایک ہی مہینہ سے شروع کیا ہے۔یہ کوئی ضروری بات نہیں تھی کہ دونوں سال ایک ہی مہینہ سے شروع ہوتے۔ہو سکتا تھا کہ گو قمری سال جمعہ کے دن سے شروع ہو تا مگر وہ مئی میں شروع ہو تا یا جون میں شروع ہو تا یا جولائی اور اگست میں شروع ہو تا لیکن اس سال کی خصوصیت یہ ہے کہ شمسی سال اور قمری سال قریباً قریباً برابر شروع ہو رہے ہیں۔شمسی اور قمری سالوں میں دس گیارہ دن کا فرق ضرور ہوتا ہے۔یعنی شمسی سال دس گیارہ دن بڑا ہوتا ہے اور قمری سال دس گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے۔مگر اس دفعہ قمری سال ایسی تاریخ سے شروع ہوا ہے کہ وہ شمسی سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گا۔اگر شمسی سال سے دو تین روز پہلے قمری سال کا آغاز ہو جاتا تو باوجود اس کے یہ قمری سال 19، 20 دسمبر کو ختم ہو جاتا۔پھر بھی دو شمسی سالوں پر تقسیم ہو جاتا مگر اب جبکہ 8 تاریخ سے شروع ہوا ہے یہ سال 30،29 دسمبر کو ختم ہو گا۔اور اس شمسی سال کے اندر ہی شروع ہو کر اندر ہی ختم ہو جائے گا۔اس کا کوئی حصہ شمسی سال کے باہر نہیں جائے گا۔اس لئے یہ دونوں در حقیقت ایک سال ہی سمجھے جائیں گے۔نہ صرف اس لحاظ سے کہ دونوں جمعہ کو شروع ہوئے بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ دونوں ایک وقت کے اندر شروع ہوئے اور ایک وقت کے اندر ہی ختم ہو جائیں گے۔سوائے اس وقت کے فرق کے جو قمری اور شمسی سالوں میں ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ 11،10 دن کا فرق دونوں سالوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے۔اس فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی سمجھا جائے گا کہ دونوں ایک وقت میں شروع ہوئے