خطبات محمود (جلد 24) — Page 308
$1943 308 خطبات محمود نے اس میں کافی حصہ لیا ہے مگر بہر حال دنیا میں پنجاب پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے۔ممکن ہے اس میں کوئی صداقت ہو اور اللہ تعالیٰ پنجابیوں کو بتانا چاہتا ہو کہ قحط کی تکلیف کیسی سخت ہوتی ہے اور یہ کہ جو ہمسائیوں پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔بہر حال بارش نہ ہونے کی وجہ سے گردو غبار اس کثرت سے اُڑ رہا ہے کہ اکثر لوگوں کو نزلہ ، کھانسی اور اس قسم کی اور بیماریاں شدت سے لاحق ہو رہی ہیں۔پھر اس دفعہ ریلوں کے متعلق بھی بہت دقت ہے اور سفر کی سہولتیں لوگوں کو میسر نہیں آسکتیں۔ان حالات میں میں نے یہ اعلان کرنا مناسب سمجھا کہ جماعت کے دوست اس دفعہ اپنے نفسوں پر جبر کرتے ہوئے زیادہ تر کوشش یہ کریں کہ عورتیں اور بچے اور کمزور مرد جلسہ سالانہ پر نہ آئیں۔سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاص سہولتیں میسر ہوں۔میں جانتا ہوں کہ طبائع پر اس قسم کے اعلان کا بُرا اثر پڑتا ہے۔یعنی وہ دکھ اور تکلیف محسوس کرتی ہیں کیونکہ جہاں عشق اور محبت ہو وہاں لوگ موت کی تکلیف بھی پسند کر لیتے ہیں مگر پیچھے رہنے کو پسند نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ بہت ہجوم تھا اور لوگ مصافحہ کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس وقت کسی دوست نے اپنے کسی عزیز سے پوچھا کہ کیا تم نے مصافحہ کر لیا ہے؟ اس نے کہا نہیں ہجوم بہت ہے۔وہ کہنے لگا یہ دن پھر تمہیں کہاں نصیب ہوں گے جاؤ اور اگر تمہارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تب بھی ایک دفعہ مصافحہ ضرور کر لو۔تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں لوگ اس قسم کی چیزوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے۔اور در حقیقت محبت کا پتہ ہی ایسی قربانیوں اور ایثار سے لگتا ہے۔مگر جہاں محبت کرنے والے کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی محبت کا اظہار کرے بلکہ اس نے کیا اظہار کرنا ہے محبت آپ اپنے وجود کو ظاہر کیا کرتی ہے۔انسانی ارادے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔وہاں وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے ذمہ داری کے کام پر مقرر کیا ہوا ہوتا ہے ان کا بھی فرض ہوتا ہے کہ ایسے دین کے شیدائیوں اور اس پر قربان ہونے والوں کی جانوں کی سوائے اس صورت کے کہ مذہب جانوں کو قربان کرنے کا مطالبہ کرے زیادہ سے زیادہ حفاظت کریں۔پس جہاں مخلصین کے دلوں میں اس خواہش کا