خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 224

$1943 224 خطبات محمود دے گا۔جہاں باقی باتیں پہلے بیان کی ہیں وہاں یہ عذاب کی بات بعد میں رکھی ہے۔اور پھر اس کی وضاحت نہیں کی بلکہ اسے مخفی رکھا ہے۔یہ نہیں کہا کہ جو نہیں مانیں گے ان کا سر کچل دیا جائے گا، وہ تباہ ہو جائیں گے بلکہ فرمایا کہ نہ ماننے کی صورت میں مجھے کچھ ان باتوں کا علم ہے جو تمہیں نہیں۔بعض لوگ تو تبلیغ ورسالت سے متاثر ہو کر مان لیتے ہیں لیکن جن کے قلوب میں کوئی مرض ہو اور معمولی مرض ہو وہ نصح سے دور ہو جاتا ہے۔مگر جن کے دلوں میں ایسا مرض ہو کہ وہ کسی طرح نہ ماننے والے ہوں تو ان کے بارہ میں مجھے ایسی بات معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں۔اس میں انذار کا پہلو ہے اور انذار کبھی کبھی مفید ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ اس رنگ میں تبلیغ کریں کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو پیش کریں۔اپنے نفس کی باتیں نہ کریں۔وہ علم دنیا کے سامنے پیش کریں جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔اور پھر اسے ساری طاقت کے ساتھ پیش کریں۔دن رات ایک کر کے تبلیغ کریں۔ہر شخص کے سامنے اس کی عقل اور سمجھ کے مطابق دلائل کو پیش کریں۔اور سادہ رنگ میں بات کو پیش کیا جائے۔اور اپنے اوپر وہ بوجھ نہ ڈالا جائے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کیا۔بعض یو نہی اپنے اوپر کوئی ذمہ داری لے لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ بات بیان فرمائی کہ عربی ام الالسنہ ہے تو بٹالہ کے ایک شخص نبی بخش نے یہ سمجھ لیا کہ آپ نے جو یہ نکتہ بیان فرمایا ہے اس کا ثابت کرنا اب میرے ذمہ ہے۔چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کیا کہ میں ہر بات قرآن شریف سے ثابت کر سکتا ہوں۔اس زمانہ میں بوروں 3 کی لڑائی ہو رہی تھی۔کسی نے پوچھا قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے ؟ تو جھٹ کہہ دیا کہ قوما بورا جو آیا ہے۔گویا انہوں نے اپنے سر پر وہ بوجھ اٹھا لیا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا نہ کیا تھا۔پس چاہیئے کہ تبلیغ میں جہاں دوسرے کی قابلیت کا خیال رکھا جائے اپنی قابلیت کا بھی رکھا جائے۔یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ جس شخص کو قرآن نہیں آتا وہ بھی ضرور تفسیر بیان کرنا اپنا فرض سمجھے۔یا عربی نہ آتی ہو تو بھی ضرور عربی دان ثابت کرے۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے حسب حال دلائل رکھے ہیں۔وہی پیش کرنے چاہئیں۔یہ غلطی ہے کہ دوسرے کے کام کو اپنے ذمہ لے لیا جائے۔ایک اور غلطی بعض لوگ تبلیغ میں یہ کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ کی