خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 223

* 1943 223 خطبات محمود میں دعا فرمارہے تھے۔مولوی صاحب کی روایت ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے کوئی عورت درد زہ کی وجہ سے کراہ رہی ہے۔میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا فرمارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ الہی لوگ طاعون سے مرتے جار ہے ہیں۔اگر دنیا اس طرح تباہ ہوتی گئی تو ایمان کون لائے گا۔حالانکہ طاعون آپ کی صداقت کا ایک نشان تھی مگر اس کے ساتھ ہی ایسی شفقت آپ کے دل میں تھی کہ طاعون سے ہلاک ہونے والوں کے متعلق آپ اس طرح تکلیف محسوس کرتے تھے جیسے کوئی اپنے کسی عزیز کی موت پر تکلیف محسوس کرتا ہے۔حالانکہ مرنے والے زیادہ تر وہی لوگ تھے جو آپ کی مخالفت کرتے تھے۔تو یہ چیز ہے جو دوسرے پر اثر کرتی ہے۔خالی منہ کا وعظ خواہ وہ خدا تعالیٰ کی باتوں پر ی مشتمل کیوں نہ ہو اتنا اثر نہیں کرتا۔جیسے کوئی غذا خواہ کتنی اعلیٰ اور کتنی مفید کیوں نہ ہو جو شخص بیمار ہے ، جس کے اندر صفراء ہے وہ اسے ہضم نہیں کر سکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم آتی ہے۔روحانی بیمار اسے ہضم نہیں کر سکتے۔جب تک کہ اس کے ساتھ نضح نہ ہو۔اگر تبلیغ کرنے والے کے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی ہو۔وہ یہ خیال کرے کہ اگر یہ مرا تو ہم بھی ساتھ ہی مریں گے۔تو اس سے دشمن کاروحانی صفراء دور ہو جاتا ہے اور دل میں خشیت پیدا ہونے لگتی ہے۔اور تبلیغ کی دوا اثر کرنے لگتی ہے۔اور بیمار اس تعلیم کو ہضم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ہی ایک اور بات جو حضرت نوح نے بیان فرمائی یہ ہے کہ اَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔یعنی اول تو ایسی تعلیم تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے بھیجی ہے۔جس کے متعلق مجھ میں یہ قابلیت ہے کہ اسے پہنچا سکوں اور میں پہنچا بھی رہا ہوں۔اور میرے اس پہنچانے میں ایسی محبت ، اخلاص اور خیر خواہی بھری ہے کہ ممکن نہیں کہ تم میں سے شریف الطبع لوگ پیچھے ہٹ سکیں۔ہر شریف انسان میری محبت اور اخلاص کو دیکھ کر ضرور غور کرے گا۔اور جب غور کرے گا تو فائدہ بھی اٹھائے گا۔لیکن جو غور نہیں کریں گے اور فائدہ نہ اٹھائیں گے تو اعلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ایسے لوگوں کے بارہ میں مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ بات معلوم ہے تمہیں معلوم نہیں۔یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آنے والا ہے جو ان کو تباہ کر جو