خطبات محمود (جلد 24) — Page 147
$1943 147 خطبات محمود کے لئے اس کے پر تو کی محتاج ہے۔جس طرح سورج کی روشنی کے بغیر اور کہیں نور نہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر اور کوئی وجود نہیں ہو سکتا۔یہ تو مفہوم ہے واحد کا۔احد کا لفظ یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا ہے۔یہ دو قسم کی نفی کرتا ہے۔پہلی یہ کہ وہ دو سے ایک نہیں ہوا۔اور دوسری یہ کہ وہ ایک سے بھی دو نہیں ہوا۔واحد ایک سے دو بھی بنتا ہے اور دو سے ایک بھی ہوتا ہے۔جہاں تک خدا تعالیٰ کی صفات کا تعلق ہے ان کے ساتھ دنیا میں اشتراک پایا جاتا ہے۔اس کے پر تو کے ماتحت دوسری اشیاء میں ایک حد تک وہ صفات مل سکتی ہیں۔گویا واحد کہنے کے ساتھ ہم اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ دنیا میں دوسرے وجود بھی موجود ہیں۔واحد کے لفظ سے ہم دوسرے کسی وجود کی طرف جا سکتے ہیں مگر احد کے لفظ سے نہیں۔اسی طرح عربی زبان میں وَاحِدُ اثْنَيْنِ کہتے ہیں ، أَحَدُ اثْنَيْنِ نہیں کہتے۔تو مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں اشتراک ہے ، ذات میں نہیں۔اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور اس کے پرتو سے ہمیں بھی سننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔کئی نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کہنا کہ ہم بھی سنتے ہیں اور خدا تعالیٰ بھی سنتا ہے یہ شرک ہے۔لیکن یہ شرک نہیں کیونکہ ہم جو سنتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا پر تو ہے۔تو میں بتا رہا تھا کہ جب ہم واحد کا لفظ بولتے ہیں تو گویا اقرار کرتے ہیں دوسرے وجود بھی دنیا میں ہیں۔ایک سے آگے دو تین چار پانچ وغیرہ ہیں اور پھر اگر واپس چلیں تو ایک پر ہی پہنچ جاتے ہیں۔مگر احد کا لفظ بتاتا ہے کہ نہ اس ایک سے آگے دو تین چار کی طرف جاسکتے ہیں اور نہ واپس ایک کی طرف آسکتے ہیں۔اور اصل بناء مخاصمت یہی ہے۔بہت سی قومیں ہیں جو ایک سے دو تین چار کی طرف لے جاتی ہیں اور پھر واپس ایک کی طرف لاتی ہیں۔عیسائیوں میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس مل کر احد ہؤا۔گویا وہ کثرت سے وحدت کی طرف لے جاتے ہیں کہ تینوں مل کر ایک ہو گئے۔اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تینوں مل کر ایک ہو گئے۔اور یہ سورۃ جس کی میں نے اس وقت تلاوت کی ہے اسی غلطی کی تردید کرتی ہے جو خصوصیت کے ساتھ آخری زمانہ میں پیدا ہونے والی تھی۔