خطبات محمود (جلد 24) — Page 120
*1943 120 خطبات محمود یا بارہ کے ساتھ ضرب دے لی جائے۔مگر یہ گندم صرف گھر کے لوگوں کے لئے کافی ہو گی۔مہمان اس میں شامل نہیں۔اسی طرح بعض دفعہ کوئی ہمسایہ مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی مدد کرنی پڑتی ہے۔اس مدد کے لئے بھی اس اندازہ میں کوئی گنجائش نہیں۔پھر بعض دفعہ غریبوں کی مدد کرنی پڑتی ہے مگر اس اندازہ کے ماتحت غرباء کی مدد بھی نہیں ہو سکتی۔یہ اندازہ صرف گھر کے افراد کے لئے ہے اور چونکہ میری ہدایات کا تعلق زیادہ تر احمدیوں سے ہے اور وہی میری بات ماننے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں اس لئے گو یہ بات ساروں کے فائدہ کی ہے۔میں احمدیوں کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جہاں جہاں احمدی جماعتیں ہیں وہاں کی جماعت کے افراد اپنی ضرورت سے زائد اس قدر غلہ محفوظ رکھیں کہ اگر ان کے شہر میں دوسرے بھائیوں کو ضرورت پیش آ جائے تو وقت پر وہ ان کی مدد کر سکیں۔میرے نزدیک اگر وہ اپنی ضرورت سے بیس فیصدی زائد غلہ محفوظ رکھیں تو اس قسم کی تمام ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں اور اپنی ضرورت کا اندازہ لگانے کا طریق میں بتا چکا ہوں کہ شہری آبادی کے لحاظ سے 12 سیر اور گاؤں والوں کے لحاظ سے 14 سیر فی کس کے حساب سے غلہ کا اندازہ لگانا چاہیئے۔فرض کرو ایک گھر کے چار افراد ہیں تو چار کو 14 سے ضرب دی جائے گی۔14x4: 56 یعنی ایک من سولہ سیر ان کے ایک مہینہ کا خرچ ہو گا۔سال بھر کے خرچ خوراک کا اندازہ لگانے کے لئے اسے بارہ سے ضرب دی جائے تو قریباً 17 من غلہ کا اندازہ ہوتا ہے۔اس طرح ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اگر ایک گھر کے چار افراد ہوں تو انہیں سال بھر کے لئے سترہ من غلہ چاہیئے۔اس کے اوپر بیس فیصدی اضافہ کا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ ساڑھے ہیں من غلہ جمع کریں تو چار آدمیوں والا خاندان اپنی ضروریات بھی پوری کر سکتا ہے۔اپنے ہمسایوں کو بھی مدد دے سکتا ہے۔اپنے شہر کے دوسرے بھائیوں کو بھی اگر وہ تکلیف میں ہوں تو مدد دے سکتا ہے بلکہ اگر وہ چاہے تو سال کے آخر حصہ میں غلہ ان کے پاس فروخت کر کے نفع بھی اٹھا سکتا ہے۔اسی طرح ہر چھوٹا بڑا خاندان اپنے اپنے غلہ کے متعلق اندازہ لگا سکتا ہے۔پس ایک تو میں گاؤں والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس اصول پر غلہ جمع کریں۔