خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 119

$1943 119 خطبات محمود وغیرہ میں بھی کچھ حصہ نکل جاتا ہے۔اسی طرح غلہ میں کچھ مٹی وغیرہ بھی شامل ہوتی ہے۔اس لحاظ سے انسان جسے من سمجھتا ہے وہ بعض دفعہ 38 سیر رہ جاتا ہے کیونکہ کچھ حصے کو کیڑے کھا جاتے ہیں اور وہ اس طرح سیر ڈیڑھ سیر نکل جاتا ہے۔کچھ دھوپ لگانے کے لئے جب گندم کو باہر نکالا جاتا اور پھر اندر رکھا جاتا ہے تو اس طرح گر جاتی ہے، کچھ گل کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے من بھر گندم کو دراصل 36 سیر ہی سمجھنا چاہیے۔بلکہ پچھلے سال تو گندم کی خرابی کی وجہ سے بعض لوگوں کی ایک من گندم تیں سیر رہ گئی تھی کیونکہ کیڑے نے بہت سی گندم ضائع کر دی تھی۔گورنمنٹ کا اندازہ یہ ہے کہ سولہ سیر فی شخص گندم کافی ہوتی ہے اور میر ا اندازہ یہ ہے کہ چھوٹے بڑے سب ملا کر شہری آبادی میں 12 سیر فی شخص کافی ہے اور اگر تنگی ترشی سے گزارہ کیا جائے تو دس سیر فی آدمی بھی غلہ کافی ہو جاتا ہے۔مگر ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب چھوٹے بچے بھی شامل ہوں اور تنگی ترشی کے ساتھ گزارہ کیا جائے۔ایسی صورت میں دس سیر غلہ بھی کفایت کر جاتا ہے لیکن اگر ایک آدمی ہو یا سب بڑے ہوں بچے نہ ہوں تو 12 سیر فی شخص کے حساب سے گندم شہریوں کے لئے کافی ہوتی ہے۔یہ تو شہری آبادی کے متعلق میرا اندازہ ہے۔گاؤں کے لحاظ سے 14 اور 15 سیر فی کس گندم کافی سمجھی جاسکتی ہے بشر طیکہ بچے بھی ساتھ شامل ہوں ورنہ 16 سیر فی کس کے حساب سے اندازہ لگانا چاہیئے۔پس سال بھر کے لئے گندم کا اندازہ لگانے کے لئے اس اصول کو مد نظر رکھ لو اور گھر کے جس قدر افراد ہوں خواہ بچے ہوں یا بڑے سب کی مجموعی تعداد معلوم کر کے گندم کے خرچ کا اندازہ لگالو۔گھر میں چونکہ چھوٹے بڑے سب ہوتے ہیں اس لئے بچوں کو بھی اس تعداد میں شامل کرنا چاہیے۔خواہ کوئی تین سال کا ہو اور خواہ پانچ سات سال کا۔اسی طرح میاں بیوی ، باپ بیٹا، بھائی سب کو شامل کر کے 14 کے ساتھ ضرب دے لو اور سمجھ لو کہ اتنے سیر غلہ ایک مہینہ کی خوراک ہے۔پھر اس کو بارہ سے ضرب دے کر سال بھر کی خوراک کا اندازہ لگالو۔شہر والے اگر سہولت سے گزارہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ بارہ سیر فی کس کے حساب سے اندازہ لگائیں اور اگر تنگی اور غربت کے ساتھ گزارہ کرنا چاہیں تو دس سیر کا اندازہ لگا لیں اور اس طرح اپنے گھر کے تمام آدمیوں کی مجموعی تعداد کو دس