خطبات محمود (جلد 24) — Page 114
$1943 114 خطبات محمود اس لئے یہاں کے رہنے والے باہر کے صوبوں کی حالت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔میرے پاس جو رپورٹیں بنگال سے پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ہوا وہاں چھپیں ستائیں روپے من چاول کا بھاؤ تھا اور اس چاول سے مراد وہ موٹا چاول ہے جو یہاں آٹھ آٹھ نو نو اور دس دس سیر فروخت ہوا کرتا تھا۔جن علاقوں میں لوگوں کی غذا ہی چاول ہے وہ پلاؤ والے چاول استعمال نہیں کیا کرتے بلکہ موٹے چاول استعمال کیا کرتے ہیں۔کشمیر میں میں نے دیکھا ہے وہاں یہ چاول پندرہ پندرہ سولہ سولہ سیر مل جایا کرتا تھا مگر اب ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ہو ا بنگال میں اس کا بھاؤ چھپیں ستائیس روپے من تھا۔تین چار دن ہوئے ایک دوست نے مجھ سے بیان کیا کہ اب بنگال سے یہ اطلاع آئی ہے کہ وہاں تیس روپے من کے حساب سے چاول ملتا ہے اور کل پرسوں ایک اور دوست مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم جہاں تھے وہاں اگر چالیس روپے من چاول میسر آجاتا تو ہم اسی کو بڑی غنیمت سمجھتے تھے۔اس سے آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن علاقوں میں لوگوں کی غذا ہی چاول ہے انہیں کس قدر مشکلات در پیش ہیں۔کشمیریوں کی بھوک تو اچھی ہوتی ہے لیکن بنگالی چونکہ دبلے پتلے ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کی تین چھٹانک خوراک بھی فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے پانچ آدمی ہوں تو ان کے صرف ایک وقت پر ایک روپیہ کے چاول خرچ ہو جاتے ہیں۔پنجابی اور کشمیری چونکہ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اس لئے ان کی خوراک اگر پانچ چھٹانک فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے تین افراد ہوں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ تین آدمیوں کی خوراک پر ایک وقت ایک روپیہ کے چاول خرچ ہو جاتے ہیں اور صبح شام کا اندازہ لگایا جائے تو تین آدمیوں کے لئے روزانہ دو روپے کے چاولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا بغیر سالن یا ترکاری وغیرہ کے اخراجات کے ایک چار پانچ آدمی کے گھرانے میں وہاں دو روپے روزانہ کے صرف چاول خرچ ہوتے ہیں۔جب ان علاقوں کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے اور یہ حالت اس وقت ہے جب چاول کی فصل پر ابھی بہت تھوڑا عرصہ گزرا ہے تو تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ کچھ عرصہ بعد وہاں کے لوگوں کی کیا حالت ہو جائے گی۔چاول اکتوبر نومبر میں پیدا ہوتا ہے اور دسمبر تک منڈیوں میں آجاتا ہے اور یہ قریب ترین زمانہ ہے اس پر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔دسمبر میں چاول کی نئی فصل