خطبات محمود (جلد 24) — Page 113
$1943 113 خطبات محمود سکتے تھے بلکہ انہیں صرف خشک روٹی کے لئے دو روپے ماہوار قرض لے کر گزارہ کرنا پڑتا تھا۔اور جن گھروں میں چار کی بجائے پانچ پانچ چھ چھ سات سات افراد تھے ان کے لئے تو اس قسم کا انتظام بھی ناممکن تھا۔ہمارے ملک میں گندم کی جو اوسط قیمت ہونی چاہیئے وہ سوا تین روپے من ہے۔یعنی اگر روپے کا بارہ سیر غلہ لوگوں کو مل جائے تو یہ ملک کے باقی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے غلہ کی مناسب قیمت ہے۔اس سے کم قیمت پر غلہ چلا جائے تو زمیندار کو نقصان ہوتا ہے بلکہ سوا تین روپے سے کم بیچنا اس کے لیے تباہی کا موجب بن جاتا ہے اور اس حالت کو ایسا ہی سمجھنا چاہیئے جیسے کسی مزدور کو تین یا چار آنے بطور مزدوری دے دیئے جائیں لیکن غلہ کی جو قیمتیں گزشتہ دنوں چڑھ گئی تھیں وہ بہت زیادہ تھیں۔اس معاملہ میں گورنمنٹ سے بھی بعض غلطیاں ہوئیں جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ کی تقریر میں ذکر کیا تھا اور پبلک سے بھی غلطیاں ہوئیں۔بلکہ ہماری جماعت نے بھی باوجود پوری طرح توجہ دلائے جانے کے میری ہدایات سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھایا۔بہر حال وہ سال تو گزر گیا اور اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔تھوڑے دنوں تک ہمارے ملک میں کٹائیاں شروع ہو جائیں گی اور مہینہ ڈیڑھ مہینہ تک نیا غلہ آنا شروع ہو جائے گا۔مجھ سے جو لوگ گزشتہ ایام میں مشورہ لیتے رہے ہیں ان میں سے جس دوست نے بھی بیع سلم کے متعلق مجھ سے مشورہ لیا میں نے اسے یہی کہا کہ اگر پانچ روپے تک بیع سلم ہو جائے تو تم سمجھو کہ یہ بڑے فائدہ کی بات ہے لیکن بہت سے دوستوں نے اپنے خیال میں یہ سمجھتے ہوئے کہ تین یا ساڑھے تین روپے پر بیع سلم ہو جائے تو اچھا ہے ایسانہ کیا۔اب اس وقت ہمارے ملک میں جو حالات رونما ہیں ان میں اگر کوئی خاص تغیر پیدا نہ ہو جائے تو میرے نزدیک اب اگر چھ روپیہ تک بیع سلم ہو جائے تو اس کو بھی غنیمت سمجھنا چاہیئے۔گوا بھی پورے طور پر نہیں کہا جا سکتا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس دفعہ پنجاب کی گندم کی حالت بہت بہتر نظر آتی ہے۔مگر جہاں ایک طرف پنجاب میں گندم کی حالت گزشتہ سال سے بہتر ہے وہاں دوسری طرف بنگال اور بمبئی میں اتنا سخت قحط ہے اور وہاں غلہ کی اس قدر کمی ہے کہ جس وقت نئی فصل تیار ہوئی یہ صوبے بے تحاشا غلہ منگوانے کے لئے پنجاب پر ٹوٹ پڑیں گے۔پنجاب چونکہ ان علاقوں میں سے ہے جو دوسروں کو غلہ بھجواتے ہیں خود نہیں منگواتے